اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، اہم معاملات پر سخت اختلافات

11 اپریل, 2026 12:01

شیعیت نیوز : امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام ہفتے کے روز اسلام آباد میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ساتھ بیٹھنے والے ہیں۔ ان مذاکرات میں کئی ایسے پیچیدہ معاملات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے جن پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ باقاعدہ بات چیت کا آغاز اسی صورت میں ہوگا جب واشنگٹن لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت دے گا۔

مذاکرات کا ایک بڑا نکتہ لبنان کی صورتحال ہے، جہاں ایران کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر حملے روکے جائیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق لبنان کی صورتحال اس جنگ بندی کا حصہ ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد مذاکرات سے قبل ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام

اس کے علاوہ ایران اپنے ان اثاثوں کی بحالی اور معاشی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے، جنہوں نے برسوں سے اس کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیا ہے، لیکن اس کے بدلے ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر سمجھوتہ چاہتا ہے۔

آبنائے ہرمز بھی ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ ایران اس اہم بحری راستے پر اپنی حاکمیت تسلیم کروانا چاہتا ہے، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ اس راستے کو بغیر کسی فیس یا پابندی کے عالمی ٹریفک کے لیے کھلا رکھا جائے۔

ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

امریکا اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ ایران کی میزائل صلاحیتوں میں کمی لائی جائے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ اس کا دفاعی میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔

ایران خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کا عہد چاہتا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حتمی امن معاہدے تک امریکی فوج خطے میں موجود رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد کی یہ اہم بیٹھک ان سنگین چیلنجز کا کیا حل نکالتی ہے۔

1:23 شام اپریل 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔