صہیونی رژیم مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، علی لاریجانی کی الجزیرہ سے گفتگو
شیعیت نیوز : ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں مسقط میں ہونے والی بات چیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ عمان اور قطر کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور علاقائی امور پر مذاکرات ہوئے، جبکہ جوہری معاملے پر بھی دونوں ممالک میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سے تاحال کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا اور تفصیلات پر کام جاری ہے۔ خطے کے ممالک چاہتے ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں اور ایران بھی اس عمل کی حمایت کرتا ہے۔
لاریجانی نے مزید کہا کہ خطہ ایران کے جوہری مسئلے کا حل چاہتا ہے اور ایران بھی مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تاکہ پائیدار معاہدہ ممکن ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاسداران انقلاب کی بحری افواج کی خلیج فارس میں “آبنائے ہرمز سمارٹ کنٹرول” مشقیں شروع
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایران اور 1+5 ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جو نافذ بھی ہو رہا تھا، مگر امریکا اس سے دستبردار ہو گیا جس کے بعد مسائل پیدا ہوئے۔ حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اقدامات کیے گئے، تاہم ان کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ایران پہلے بھی مذاکرات کا حامی تھا اور اب بھی ہے، بشرطیکہ یہ مذاکرات منصفانہ، معقول اور بامعنی ہوں اور انہیں وقت گزاری یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
لاریجانی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان کردہ ہدف یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر ایران کو اعتراض نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ میزائل پروگرام کا مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایران کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اس لیے اس پر بات چیت نہیں ہوگی۔ موجودہ مذاکرات صرف جوہری مسئلے تک محدود ہیں اور دیگر موضوعات کو شامل کرنے سے عمل متاثر ہوگا۔







