انقلابِ اسلامی مغربی تہذیب کے واحد مقابل ہے، آیت اللہ اعرافی
شیعیت نیوز : آیت اللہ اعرافی کا اہم بیان: طوفان الاقصیٰ کے بعد دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے – انقلابِ اسلامی واحد تحریک ہے جو مغربی تہذیب کے مقابل کھڑی ہے
ملک ایران کے مبلغین کی جامع کونسل سے ملاقات کے دوران سربراہ حوزہ ہائے علمیہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ اور حالیہ عالمی واقعات کے بعد دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جو ماضی کے تمام ادوار سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق، یہ دور دین، روحانیت اور حوزہ علمیہ کے لیے ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انقلابِ اسلامی نے صدیوں بعد امتِ مسلمہ کو عظیم مواقع فراہم کیے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ بے مثال خطرات اور دباؤ بھی پیدا ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر امریکہ، یورپ، صہیونی حکومت اور بعض عرب ممالک کے درمیان ہم آہنگی، انقلابِ اسلامی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اس کے مقابلے میں دنیا کے مختلف ممالک کے عوام میں اسلامی انقلاب کے نظریات کے لیے ہمدردی میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونی فوجی کا خودکشی بیان: “ایران پر اکیلے حملہ کریں گے” ریڈ لائن عبور کی صورت میں امریکہ کی ضرورت نہیں!
آیت اللہ اعرافی نے مغربی تہذیب کو ایک اہم فکری خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ صدیوں سے مغربی تمدن دنیا پر غالب ہے اور انقلابِ اسلامی واحد تحریک ہے جو سنجیدگی سے اس کے مقابل کھڑی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں اور دینی مراکز میں مغربی علوم و افکار کا گہرائی سے تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت اور علومِ شناختی کی تیز رفتار ترقی کو ایک نیا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ یہ تبدیلیاں معاشرتی اور فکری نظام پر گہرے اثرات ڈالیں گی، جن کے لیے بروقت تیاری ناگزیر ہے۔
سربراہ حوزہ ہائے علمیہ نے کہا کہ صنف علماء اور دینی مراکز میں باصلاحیت نوجوان موجود ہیں، لیکن بدلتے حالات کے مطابق متحرک اور جدید حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے مستقبل بینی اور منظم منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب تک کی گئی کوششیں موجودہ ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انقلابِ اسلامی اور اسلامی نظام نے دین اور تبلیغ کے میدان میں نئی اور وسیع ضروریات پیدا کی ہیں، جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس تناظر میں تبلیغ کو عوامی حمایت سے جوڑنا انتہائی اہم ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے واضح کیا کہ مؤثر تبلیغ وہی ہے جو عوامی تعاون سے ہو۔ مساجد اور مذہبی مراکز کو عوامی بنیادوں پر چلایا جانا چاہیے تاکہ دینی پیغام زیادہ مؤثر انداز میں معاشرے تک پہنچ سکے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ تبلیغی نظام کو جدید تقاضوں اور عوامی شراکت کے مطابق منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔








