ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستانی شمولیت کے خلاف ایم ڈبلیوایم کا احتجاج

23 جنوری, 2026 15:25

شیعیت نیوز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ فیصلہ نہ صرف اصولی اور پالیسی سطح پر بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی ناقابلِ دفاع ہے، بورڈ آف پیس ابتدا ہی سے شکوک و شبہات کا شکار رہا ہے، جنگ کے بعد غزہ کے لیے ایک بیرونی طور پر مسلط کردہ انتظامی ڈھانچے کا تصور دراصل فلسطینی عوام سے ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت چھیننے کی سازش ہے، جس شخص کا سیاسی کیریئر جنگی دھمکیوں، عالمی جرائم و تنازعات کو ہوا دینے اور مظلوم اقوام کے خلاف جارحانہ پالیسیاں ہو اسے امن کے نام پر کسی عالمی فورم کا حصہ بنانا عالمی ضمیر کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے بعد نماز جمعہ خوجا جامع مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کیا۔ احتجاج میں علامہ رفاقت علی نجفی، ناصر الحسینی، نوشاد علی، تحریک بیداری امت کے رہنما یاور عباس سمیت مظاہریں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مظاہرین نے امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ملکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس سے فوری علیحدگی کا اعلان کرے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کا اس نام نہاد بورڈ میں شامل ہونا قومی خودمختاری، عوامی جذبات اور اصولی خارجہ پالیسی کے خلاف ایک افسوسناک اقدام ہے، ایسی حکومت جو عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے قومی مفادات کو قربان کرے، وہ عوام کے اعتماد کی حقدار نہیں رہتی۔

مقررین نے کہا کہ تعمیرِ نو، سلامتی اور سیاسی نگرانی کو بیرونی قوتوں کے حوالے کرنا ایک واضح نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان کی اس عمل میں شمولیت مزید تشویشناک ہے، کیونکہ جس منصوبے کو ابتدا میں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے بعد محض تعمیرِ نو کے ایک محدود طریقہ کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب اسے کھلے عام وسعت دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اپنی فوج کو کبھی بھی غزہ کے مقاومتی گروہوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، ملت جعفریہ پاکستان

مقررین نے کہا کہ اس بورڈ کے مرکزی سرپرستوں امریکہ و اسرائیل کے بیانات اور مجوزہ منشور ایسے عزائم کو ظاہر کرتے ہیں جو فلسطین سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں اور جن میں اقوامِ متحدہ کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے، پاکستان نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قوانین پر انحصار کرتا آیا ہے، خصوصاً کشمیر جیسے معاملات میں جہاں پاکستان عالمی قانونی حیثیت کی بالادستی پر زور دیتا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ایک طرف اقوامِ متحدہ کی مرکزیت کا دفاع اور دوسری طرف ایسے اقدامات میں شمولیت جو اسی ادارے کو کمزور کریں، ایک ناقابلِ فہم تضاد ہے۔مقررین نے واضح کیا کہ فلسطینی کاز کی بنیاد ہمیشہ حقِ خود ارادیت اور اقوامِ متحدہ کی تائید یافتہ قانونی حیثیت رہی ہے، نہ کہ بیرونی طور پر مسلط کردہ حکمرانی کے ماڈل کی۔ آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے نظام کو کمزور کرنے والے منصوبے سے وابستگی اختیار کرکے پاکستان اپنی اخلاقی ساکھ اور تزویراتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لے رہا ہے اور یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر قوم کو مستقبل میں افسوس ہوگا۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے، قوم کو اعتماد میں لے اور واضح کرے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی بھی سامراجی طاقت کے دباؤ کے تحت نہیں بلکہ قومی مفادات اور عالمی انصاف کے اصولوں کے مطابق تشکیل دی جائے گی، اگر حکومت نے اس معاملے پر اپنی پالیسی درست نہ کی تو عوامی سطح پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

 

8:00 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top