پی ٹی آئی نے حکومت کا ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کا فیصلہ مسترد کر دیا
شیعیت نیوز: پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومتِ پاکستان کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی اہمیت کے حامل فیصلے مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے بغیر نہیں کیے جا سکتے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور وہ موجودہ پارلیمان کو جائز نہیں سمجھتی، کیونکہ 2024 کے انتخابات کے نتائج میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے ایک جعلی حکومت مسلط کی گئی۔ بیان کے مطابق جس جماعت کو اقتدار میں لایا گیا، وہ درحقیقت صرف 17 نشستیں جیت سکی تھی۔ اس کے باوجود، حکومت کو چاہیے تھا کہ ایسے اہم فیصلے کرنے سے قبل دستیاب پارلیمانی فورمز پر کھلے مباحثے کے ذریعے اس معاملے کو زیرِ غور لاتی۔ پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی بین الاقوامی امن اقدام میں پاکستان کی شمولیت اقوامِ متحدہ کے کثیرالجہتی نظام کی تقویت کا باعث ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے متوازی ڈھانچوں کی تشکیل کا ذریعہ جو عالمی نظام کو کمزور یا پیچیدہ کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی ہمیشہ اس اصول پر قائم رہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی خودمختاری کے تحفظ، آئینی اقدار کی پاسداری اور وسیع قومی و عوامی اتفاقِ رائے کی عکاس ہونی چاہیے۔ پالیسی بیان میں فلسطینی عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف، بطور جماعت اور ہر پاکستانی شہری بطور انسان، فلسطینی عوام کی مرضی کے خلاف کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : انقلابِ اسلامی کا انسانی اور الہیٰ پیغام سرحدوں سے نکل کر عالمی مساوات پر اثر انداز ہو رہا ہے،علامہ شبیر میثمی
پی ٹی آئی نے فلسطینی عوام پر جاری مظالم پر شدید رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس میں القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہو۔ بیان کے مطابق یہ وہی اصولی مؤقف ہے جسے سابق وزیرِ اعظم عمران خان مسلسل پیش کرتے رہے، جو انصاف، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پی ٹی آئی نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” میں کسی بھی باضابطہ شرکت کو اس وقت تک واپس لیا جائے جب تک مکمل مشاورتی عمل مکمل نہ ہو۔ اس عمل میں پارلیمانی نظام کے تحت مکمل جانچ پڑتال اور بحث و مباحثہ، تمام بڑی سیاسی قیادت سے جامع مشاورت بالخصوص سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے مشاورت، اور عوامی اعتماد کے لیے ریفرنڈم کے ذریعے قوم سے رائے لینا شامل ہونا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، اصول پسند اور امن دوست ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، جس کی عالمی سطح پر مصروفیات وقار اور قانونی حیثیت کی حامل ہوں، اقوامِ متحدہ کے منشور سے ہم آہنگ ہوں اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر استوار ہوں۔







