کوئٹہ: خانۂ فرہنگ ایران میں رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کے افکار پر دوسری خصوصی نشست
شیعیت نیوز: خانۂ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کوئٹہ پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے مختلف ثقافتی و علمی اداروں کے تعاون سے ’’رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے افکار و نظریات سے آگہی‘‘ کے عنوان سے دوسری خصوصی نشست کا کامیاب انعقاد کیا۔ یہ علمی و ثقافتی نشست خانۂ فرہنگ کوئٹہ کے آیت اللہ خامنہ ای ہال میں منعقد ہوئی۔
اس پُر وقار تقریب میں بلوچستان کے مختلف طبقاتِ فکر سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین میں طلباء و طالبات، وکلاء، جامعات کے اساتذہ، شیعہ و اہل سنت کے جید علمائے کرام اور معروف ادبی شخصیات شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایران فیری سروس کا باضابطہ آغاز، چاہ بہار سے کراچی پہلی فیری پہنچ گئی ٹکٹ انتہائی مناسب
نشست کے دوران بلوچستان اور پاکستان کے دیگر شہروں سے تشریف لائے مقررین نے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے ثقافتی، انتظامی، سماجی، سیاسی اور ادبی افکار کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور شرکاء کے لیے رہبرِ معظم کے فکری نظام کی جامع تشریح پیش کی۔
نشست سے امام جمعہ کوئٹہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم نے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ معظم کی امتِ مسلمہ کے لیے سیاسی، سماجی اور دفاعی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
سنی علماء نے خطاب کرتے ہوئے فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کے بارے میں رہبرِ معظم کے نظریات کو سراہا اور فلسطین کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔
علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم انقلاب صرف شیعوں کے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کا ایک عظیم سرمایہ ہیں۔ آپ نے جدید قرآنی تمدن کا نظریہ پیش کیا جس میں امت کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ ہمیں جدید اسلامی تمدن کو قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں دنیا کو بتانا ہوگا کہ قرآن فرقہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ امت سازی کے لیے نازل ہوا ہے۔ قرآن ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے، حقیقی بیداری، آزادی اور استقامت دینے آیا ہے، اسی لیے ہر باطل نظام کو توڑتا اور اس کی نفی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظم ایک قرآنی شخصیت ہیں جنہوں نے ثقافت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ہر قسم کی تبدیلی کے لیے ثقافت کو ہی ملاک قرار دیا۔ اجتماعی عدالت زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے آپ نے مقاومتی اقتصاد کا نظریہ پیش کیا۔ اگر مسلمان اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو مختلف اقتصادی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر بشوی نے کہا کہ 45 سال سے ایران پر معاشی پابندیاں عائد ہیں مگر پھر بھی ایران پہلے سے زیادہ قدرت کے سامنے کھڑا ہے، اس کی بنیادی وجہ رہبرِ معظم کی بابصیرت قیادت ہے۔ آپ نے فلسطین کے مسئلے پر وہ کردار ادا کیا کہ آج دنیا حیران ہے۔ ایک طرف فلسطین کو عالمِ اسلام کا پہلا مسئلہ بنایا تو دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ کی طاقت اور غرور کو خاک میں ملا دیا اور آج دنیا میں جدید مشرق وسطیٰ کا قیام شروع ہو چکا ہے۔
جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے استاد نے کہا کہ رہبرِ معظم نے یہ بشارت بھی دی ہے کہ فلسطین عنقریب آزاد ہوگا، آزادی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ رہبرِ معظم کے ثقافتی اور اجتماعی نظریات ہر تبدیلی کی بنیاد ہیں۔ آج سیاست کے لیے ثقافت کو استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ سیاست کی بنیاد بھی ثقافت ہے۔ قرآن ثقافتی تبدیلی چاہتا ہے۔ مغرب ہماری ثقافت کو نابود کرنے کے لیے کوشاں ہے، اسی لیے رہبرِ معظم نے قرآن کی محوریت پر نئے اسلامی تمدن کے قیام کی بات کی ہے جس میں ہر چیز حکمت، مصلحت اور عزت کی بنیاد پر آگے بڑھے گی اور معاشرہ اجتماعی عدالت، اقتصاد، علم و ٹیکنالوجی اور معنویت کی بنیاد پر ترقی کرے گا۔







