تحقیق عوام کے درد کا علاج ہو، تبلیغ گلی گلی پہنچے، حجۃ الاسلام محسن قرائتی کی طلاب کو نصیحت
شیعیت نیوز: معروف مفسرِ قرآن حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے قم المقدسہ میں علماء و طلاب سے خطاب کرتے ہوئے بعض غیر مؤثر و پیچیدہ علمی تحقیقات پر کھری تنقید کی اور کہا کہ تبلیغِ دین اس انداز میں ہونی چاہئے کہ عام عوام بھی اسے سمجھ سکیں اور خواص و دانشور طبقہ بھی اسے پسند کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج کئی مراکز میں قرآن مجید پر سینکڑوں تحقیقی رسالے موجود ہیں لیکن ان میں سے اکثر مباحث عوام کی عملی زندگی اور روزمرہ ضرورتوں سے بہت دور ہیں، نہ انہیں میڈیا پر پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوامی سطح پر سمجھایا جا سکتا ہے۔ محققین کو چاہئے کہ وہ ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو براہِ راست معاشرے کے درد اور مسائل کا علاج ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: عورت کے لیے کامل اور ہر دور میں زندہ اسوۂ حسنہ
نماز کمیٹی کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ سب سے مؤثر تبلیغ کا طریقہ یہ ہے کہ فرداً فرداً لوگوں کے گھروں میں جائیں، ان کے قریب بیٹھیں اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کو انتہائی سادہ اور دلنشین زبان میں بیان کریں۔ جو طلاب اس میدان میں سرگرم ہوتے ہیں وہی سب سے زیادہ کامیاب اور بابرکت ہوتے ہیں۔
انہوں نے تفسیر قرآن کے بارے میں رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ تفسیر اس طرح لکھی جائے کہ عام آدمی بھی اسے بآسانی سمجھ لے اور عالم بھی اس کی قدر کرے۔ قرآن کریم خود فرماتا ہے: "وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ” یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، پس کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے؟
حجۃ الاسلام قرائتی نے موجودہ دور کے نوجوانوں کے معاشی اور ازدواجی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج لڑکے اور لڑکیاں روزگار اور شادی کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگر طلبہ و طالبات کم وسائل میں بھی سادہ زندگی پر راضی ہو جائیں اور شادی میں غیر ضروری سخت شرائط نہ رکھیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔
آخر میں انہوں نے طلاب کو نصیحت کی کہ کسی کے منتظر نہ بیٹھیں بلکہ خود ابتکار اور اقدام کریں۔ اگر استعداد اور آمادگی ہو تو مواقع خود بخود سامنے آ جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے قرآن مجید سے 2600 سے زائد حقوقی نکات استخراج کیے ہیں جو آج ایران کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔







