جدید ٹیکنالوجی و AI کے استعمال میں علمی امانت داری ضروری ہے، آیت اللہ مکارم شیرازی
آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے جدید ٹیکنالوجی، میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں اٹھائے گئے متعدد شرعی سوالات کے تفصیلی جوابات جاری کیے ہیں، جن میں حقوقِ نشر، علمی امانت داری اور افراد کی شخصی حرمت کے تحفظ پر خصوصی تاکید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہمارا دشمن صرف صہیونی اسرائیل ہے، لبنانی اہل سنت عالمِ دین
موصولہ رپورٹس کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے سامنے پیش کیے گئے اہم سوالات اور ان کے جوابات درج ذیل ہیں:
۱۔ حقوقِ نشر (کاپی رائٹ)
ایسے علمی یا فکری کام کا ترجمہ یا اشاعت، جس پر حقِ نشر موجود ہو، مصنف یا ناشر کی اجازت کے بغیر شرعاً جائز نہیں، چاہے وہ ممالک ہوں جہاں کاپی رائٹ کے قوانین سختی سے نافذ نہ ہوں۔
۲۔ بلا اجازت ترجمہ
اگر کوئی شخص کسی کتاب یا مقالے کا ترجمہ بغیر اجازت کرے تو یہ عمل ناجائز اور غصبِ معنوی شمار ہوگا۔
۳۔ سوشل میڈیا پر مواد کا استعمال
سوشل میڈیا یا ویب سائٹس پر دوسروں کی ویڈیوز، تصاویر یا متن کو بغیر اجازت استعمال کرنا صرف اس وقت جائز ہے جب صاحبِ اثر کی رضایت یقینی ہو۔
۴۔ افراد کی شخصی حرمت
کسی شخص کے چہرے یا آواز کو طنز، مزاح یا اشتہار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا بغیر اجازت شرعاً ناجائز ہے۔
۵۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال
مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے مقالہ، کتاب یا تحقیقی مواد تیار کرکے اسے اپناتنسب کر دینا اور AI کے کردار کا ذکر نہ کرنا جائز نہیں۔
البتہ اگر واضح طور پر بتایا جائے کہ کام میں AI کی معاونت شامل ہے تو اس کی اجازت ہے۔
۶۔ علمی غصب اور تدلیس
اگر کسی تحقیق کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہو اور فرد اسے اپنی محنت قرار دے، تو یہ عمل تدلیس اور غصبِ علمی کے زمرے میں آتا ہے اور شرعاً محلِ اشکال ہے۔
آخر میں آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی شریعتِ اسلامی انسانی حقوق، اخلاقی ذمہ داریوں اور علمی امانت داری کو بنیادی اصول کے طور پر پیش کرتی ہے، اور ان اصولوں کی خلاف ورزی قابلِ قبول نہیں۔







