مزاحمتی محاذ کے زوال کا مطلب ہتھیار ڈالنا ہے، لہٰذا مزاحمت جاری رہے گی: حزب اللہ

16 نومبر, 2025 12:41

شیعیت نیوز: لبنانی پارلیمنٹ میں مزاحمتی محاذ کے ساتھ وابستہ اتحاد الوفاء للمقاومۃ کے سینئر رکن حسن عزالدین نے یوسف احمد کی سربراہی میں آئے ڈیموکریٹک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ملاقات میں تاکید کی ہے کہ محاصرہ، دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود بھی امریکی آج تک اس علاقے پر کنٹرول حاصل نہیں کر پائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے سامنے دو ہی میدان ہیں: میدانِ جنگ اور قتل و غارت کا میدان۔ قتل و غارت کے میدان میں دشمن جیت گیا، لیکن میدانِ جنگ میں نہ وہ فتح حاصل کر سکا اور نہ ہی اپنے اہداف تک پہنچ پایا۔ بالکل اسی طرح جیسے 7 اکتوبر کے مزاحمتی آپریشن کے آغاز کے بعد اپنی پہلی تقریر میں شہیدِ مقاومت سید حسن نصر اللہ نے واضح کیا تھا کہ ہم حماس اور فلسطینی مزاحمت کو زوال کی طرف نہیں جانے دیں گے، کیونکہ ان کا زوال پورے مزاحمتی محاذ کا زوال ہے۔ لہٰذا مزاحمت کے لیے ہماری حمایت مکمل ادراک اور یقین پر مبنی ہے، کہ ہمارا دفاع دراصل پیشگی دفاع ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ہمارا دشمن صرف صہیونی اسرائیل ہے، لبنانی اہل سنت عالمِ دین

حسن عزالدین نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی تکنیکی برتری کے باوجود کبھی کوئی جنگ نہیں جیت سکا، کیونکہ محض فوجی برتری کسی تنازعے کے نتائج کا تعین نہیں کر سکتی۔ فتح کے لیے مادی عنصر — یعنی ہتھیار اور ٹیکنالوجی — کے ساتھ معنوی عنصر یعنی ارمان، ارادہ اور جذبہ بھی ضروری ہوتا ہے۔

لبنانی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ مزاحمت نے کامیابیاں حاصل کیں کیونکہ اس کے پاس دونوں عناصر موجود ہیں، جبکہ دشمن کے پاس صرف پہلا عنصر ہے، دوسرا نہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کی منطق "طاقت کی منطق” ہے، لیکن وہ ظلم و جبر کے ذریعے حکمرانی برقرار نہیں رکھ سکتے، کیونکہ حکمرانی ظلم سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم رہتی ہے۔ اس لیے مزاحمت کا ارمان باقی ہے اور اس کا تسلسل جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے، وہی لبنان میں بھی نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دشمن مزاحمت کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے معاشی، مالی، سماجی اور قانونی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم موت قبول کر لیں گے لیکن ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم کسی صورت گھٹنے نہیں ٹیکیں گے کیونکہ یہ عمل شہداء کے خون سے غداری ہوگا۔

الوفاء للمقاومۃ کے سینئر رکن نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکمتِ عملی درست کرے اور دشمن کو جنگ بندی پر عملدرآمد، جارحانہ کارروائیوں کے خاتمے، لبنانی سرزمین کے اندر مقبوضہ علاقوں سے انخلاء اور قیدیوں کی رہائی پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام نکات قرارداد 1701 کا حصہ ہیں، جن پر عملدرآمد سے دشمن امریکی سرپرستی کے باعث مسلسل گریز کرتا آیا ہے۔

5:32 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔