حضرت زہراءؑ کی سیرت فکری بیداری، امامت کے حق کے لیے احتجاج اور الٰہی بصیرت کا منبع ہے، مولانا منظور نقوی
شیعیت نیوز: حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہؑ قم کے ابو طالب ہال میں ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے ایک مجلسِ عزاء منعقد ہوئی؛ مجلسِ عزاء میں مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے خطاب کیا۔
مولانا منظور علی نقوی نے فرمایا کہ قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَـٰنُ وُدًّا۔ یعنی: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور عملِ صالح انجام دیتے ہیں، خداوند متعال ان کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں بسا دیتا ہے۔
مولانا منظور نقوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی پوری زندگی اللہ کی محبت، یقینِ کامل اور روحانی عظمت کی آئینہ دار تھی۔ بی بیؑ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی ایمان صرف عقیدہ نہیں، بلکہ دل کی روشنی اور روح کی طاقت ہے۔ ان کی زندگی میں جود و سخا، صبر، استقامت اور حق گوئی وہ صفات تھیں جو ہر مؤمن کے لیے نمونہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہؑ کا قیام محض وقتی یا ذاتی ضرورت نہیں تھا، بلکہ ایک اعلانِ ولایت تھا۔ جب دل ایمان سے روشن اور روح بقا سے معمور ہو تو کوئی طاقت حق کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتی۔ حضرت زہراؑ کا غم، ان کی فریاد اور ان کا خطبہ سب ولایت کی صدا تھے؛ وہ صدا جس سے باطل لرز اُٹھا۔ چودہ صدیاں گزر گئیں مگر بی بیؑ کی صدائے حق آج بھی زندہ ہے اور ان کے قیام نے ہر دور میں باطل کے چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
مولانا سید منظور علی نقوی نے ایامِ فاطمیہ اور ایامِ عاشوراء کے تقابلی مفہوم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایامِ فاطمیہ ایامِ تخلیہ ہیں — اپنے باطن کو پاک کرنے کے دن — جبکہ ایامِ عاشوراء ایامِ تزکیہ ہیں، یعنی نفس کی تربیت و طہارت کے ایام۔ ان دونوں ایام کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم میں ظرف، شعور اور بیداری نہ ہو تو وہ فساد اور گمراہی کا شکار ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زہراؑ کا بولنا یا فریاد کرنا محض تاریخی یا جذباتی واقعہ نہیں، بلکہ فکری بیداری اور الٰہی بصیرت کی علامت ہے۔ بی بیؑ نے اپنے عمل سے امت کو یہ سبق دیا کہ اگر ایمان خالص ہو تو انسان باطل کے سامنے خاموش نہیں رہتا۔
مولانا منظور نقوی نے کہا کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ عزت و وقار یہ ہے کہ اسے امامِ معصومؑ کی معیت نصیب ہو؛ یہی حقیقی کامیابی اور مقامِ قربِ الٰہی ہے۔
انہوں نے دعا کے الفاظ نقل کرتے ہوئے کہا:
فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي مَنَّ عَلَيَّ بِمَعْرِفَتِكُمْ وَمَعْرِفَةِ أَوْلِيَائِكُمْ وَرَزَقَنِي الْبَرَاءَةَ مِنْ أَعْدَائِكُمْ وَأَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔
(میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جس نے مجھے آپ کی معرفت اور آپ کے اولیاء کی معرفت عطا کی اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری دی، کہ وہ مجھے دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ رکھے۔)
مولانا منظور نقوی نے واضح کیا کہ "معرفت” محض نام جاننے کا نام نہیں۔ تاریخ میں بہت سے لوگ حسین ابنِ علیؑ، علی مرتضیٰؑ یا فاطمہ زہراؑ کے نام سے واقف رہے مگر حقیقی معرفت سے محروم رہے۔ اصل معرفت وہ ہے جہاں زبان، دل اور عمل تینوں ایک راہ پر ہوں؛ جہاں محبت اور عملِ صالح جمع ہوں اور انسان اپنے امامؑ کے طریق پر قائم ہو۔
انہوں نے کہا کہ شیعہ ہونا صرف نسبت یا دعوے کا نام نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہونے والا رشتہ ہے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہراؑ کا ارشاد بھی نقل کیا:
إِن كُنتَ تَعْمَلُ بِمَا أَمَرْنَاكَ وَتَنْتَهِي عَمَّا زَجَرْنَاكَ، فَأَنْتَ مِن شِيعَتِنَا۔
(اگر تم وہی کرتے ہو جس کا ہم نے حکم دیا ہے، اور اس سے بچتے ہو جس سے ہم نے روکا ہے، تو تم ہمارے شیعہ ہو۔)
مولانا نقوی نے مؤمن کے لیے چند بنیادی صفات بھی شمار کیں جن کی بدولت انسان امامؑ کی معیت اور قربِ الٰہی تک پہنچتا ہے:
-
ایمانِ خالص رکھنا
-
عمل و عقیدہ کے لحاظ سے شیعہ ہونا
-
شفاعت پر کامل اعتقاد رکھنا
-
نماز قائم کرنا
-
قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا
-
خیانت سے پاک رہنا
آخر میں مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے کہا کہ معرفتِ امامؑ صرف زبان سے نہیں بلکہ دل کی روشنی اور عمل کی صداقت سے حاصل ہوتی ہے؛ جو شخص اپنے امامؑ کی راہ پر عمل کرتا ہے وہی سچا شیعہ ہے اور یہی لوگ دنیا و آخرت میں شفاعت و معیتِ امامؑ کے حامل ہوں گے۔







