کسی بھی قیمت پر غیر مسلح نہیں ہوں گے، شیخ نعیم قاسم
شیعیت نیوز: حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے ایک اہم خطاب میں کہا ہے کہ شہادت کو فتح کا ذریعہ سمجھنا حزب اللہ کے نظریے کا بنیادی ستون ہے اور اسی عقیدے کی وجہ سے مزاحمتی صفیں مستحکم رہتی ہیں۔
انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سید المقاومة سید حسن نصراللہ کا مؤقف تھا کہ جب ہم شہید ہوتے ہیں تو ہم جیت جاتے ہیں، اور یہی جذبہ مزاحمت کو قوت عطا کرتا ہے۔
شیخ قاسم نے کہا کہ حزب اللہ کی عسکری مزاحمت نے خطے میں توازن برقرار رکھا اور اس کی وجہ سے 2000 سے 2023 کے دوران تقریباً 75 ہزار اسرائیلی فوجیوں اور افسران کو لبنان پر حملے سے باز رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام، فوج اور مزاحمت کے باہمی اتحاد نے اس دور میں قوتِ توازن قائم رکھی۔
یہ بھی پڑھیں : عراق کے فیصلے عراقی عوام خود کریں گے، غیر ملکی مداخلت برداشت نہیں، بدر تنظیم کے سربراہ ہادی عامری
انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کو حزب اللہ اپنی شکست نہیں سمجھتی بلکہ اسے خوش آئند قرار دیتی ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لبنانی فوج مزاحمت کے ساتھ کھڑی ہے۔ شیخ قاسم نے اکتوبر کے معاہدے کو قابلِ قبول کہا، جس کے تحت لبنانی فوج کو جنوبِ لبنان میں تعینات کیا گیا۔
شیخ قاسم نے لبنانی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مقاومت کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات اسرائیل کے بہانے ختم نہیں کریں گے کیونکہ دشمن ہمیشہ نئے جواز تلاش کرتا رہے گا تاکہ لبنان پر حملہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مستقبل میں لبنان کے فوجی، اقتصادی، سیاسی اور قومی فیصلوں میں مداخلت کر سکتے ہیں، اور اس طرح مزاحمت کو کمزور کر کے لبنان کو مزید خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔
آخر میں شیخ نعیم قاسم نے دوٹوک الفاظ میں کہا: "مقاومت غیر مسلح نہیں ہوگی” اور حزب اللہ اپنے دفاع اور عوام کے موقف کی حفاظت جاری رکھے گی۔







