پانچ سالہ مدت کے اختتا م پر ایم ڈبلیوایم کی ممبر گلگت بلتستان اسمبلی محترمہ کنیز فاطمہ کی کارکردگی رپورٹ جاری
شیعیت نیوز: گلگت بلتستان اسمبلی کی رکن محترمہ کنیز فاطمہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں خواتین کے حقوق، فلاحی امور اور سماجی بہبود کے لیے ان کی نمایاں خدمات کو سراہا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، محترمہ کنیز فاطمہ نے بطور رکن اسمبلی متعدد اہم قراردادیں پیش کیں جنہیں ایوان نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ ان میں خواتین کی وراثت کے حق سے متعلق قرارداد، گلگت بلتستان اسمبلی کی مدت سے متعلق مشترکہ قرارداد، چیف اور ویمن محتسب کے دفاتر کے قیام کی قرارداد، روشن بی بی کے لیے قراردادِ تحسین اور اسمبلی ممبران کی KCBL بینک کے بورڈ میں نمائندگی سے متعلق قرارداد شامل ہیں۔
مزید برآں، انہوں نے ایک اہم نجی ممبر بل — “گلگت بلتستان خواتین کی جائیداد کے حقوق کے نفاذ کا بل 2022” — پیش کیا جو اس وقت حکومت کے زیرِ غور ہے۔
محترمہ کنیز فاطمہ نے عوامی مسائل پر توجہ مبذول کرانے کے لیے مختلف توجہ دلاؤ نوٹسز بھی اسمبلی میں جمع کرائے جن کا تعلق ہیلتھ کارڈ کی بحالی، غیر معیاری خوراک، فوڈ اتھارٹی کے قیام اور معذور افراد کے حقوق کے نفاذ سے تھا۔
انہوں نے مختلف تحقیقی سوالات (Starred Questions) کے ذریعے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ، سیلاب متاثرین کی بحالی، بچوں کی تعلیم، اور جسمانی سزا کی ممانعت سے متعلق امور پر حکومتی محکموں سے جواب طلب کیے۔
یہ بھی پڑھیں : کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو سرگرمیوں کی اجازت دینا سندھ کے امن و امان کیلئے سنگین خطرہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اسی طرح انہوں نے ایم پی اے ہاسٹل گلگت کی تعمیر میں تاخیر اور طویل لوڈشیڈنگ کے مسائل پر تحریک التوا (Adjournment Motions) بھی پیش کیں۔
رپورٹ کے مطابق محترمہ کنیز فاطمہ نے بطور چیئرپرسن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹینڈنگ کمیٹی اور بطور ممبر سوشل ویلفیئر اسٹینڈنگ کمیٹی فعال کردار ادا کیا، دونوں کمیٹیوں کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے۔
بطور نائب صدر ویمن پارلیمنٹری کاکس، انہوں نے خواتین کے حقوق، بااختیاری اور قانون سازی سے متعلق سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔
علاوہ ازیں، انہوں نے دو سال تک بطور پارلیمانی سیکریٹری برائے سوشل ویلفیئر، ویمن ڈیولپمنٹ، آبادی، چائلڈ پروٹیکشن، انسانی حقوق اور نوجوانوں کے امور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ محترمہ کنیز فاطمہ کی پارلیمانی کارکردگی خواتین اراکین کے لیے ایک مثالی کردار کی حیثیت رکھتی ہے، اور ان کی کوششوں سے خواتین کے حقوق کے فروغ اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔







