کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو سرگرمیوں کی اجازت دینا سندھ کے امن و امان کیلئے سنگین خطرہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی

06 نومبر, 2025 16:54

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے سردارزادہ میر فائق علی خان جکھرانی کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قوم و ملک کی ترقی امن و امان کی تسلی بخش صورتحال سے وابستہ ہوتی ہے۔ جہاں لوگوں کی جان و مال محفوظ نہ ہوں وہاں نہ تعلیم پروان چڑھ سکتی ہے اور نہ کاروبار مستحکم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے، چوری، ڈکیتی، اغوا اور بدامنی کے واقعات عروج پر ہیں۔ سندھ سے ڈاکو راج کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام سکون کا سانس لے سکیں۔ اغواء انڈسٹری منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ کے پی کے، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے لوگوں کو بلا کر دھوکے سے اغوا کیا جاتا ہے اور بھاری رقوم کے عوض انہیں رہا کیا جاتا ہے۔ تاوان نا دینے کی صورت میں مغوی کو قتلِ کر کے اس کی لاش پھینک دی جاتی ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ قبائلی جھگڑوں کے نام پر معصوم انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، لہٰذا پولیس، ریاستی ادارے اور قبائلی سردار قبائلی جھگڑوں کے خاتمے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کی جانب سے مساجد و امام بارگاہوں کی سیکورٹی کلوز کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو سرگرمیوں کی اجازت دینا سندھ کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ کالعدم تنظیم کی جانب سے جیکب آباد میں جلسے کا اعلان انتہائی افسوسناک ہے۔ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ اس کا بروقت نوٹس لیں۔

یہ بھی پڑھیں : علامہ علی حسنین حسینی کی سربراہی میں ایم ڈبلیوایم بلوچستان کے وفد کی ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود جب شریف شہریوں کو جلسے جلوس کی اجازت نہیں، تو کالعدم تنظیموں کو کس قانون کے تحت اجازت دی جا رہی ہے؟ یہ دوہرا معیار ناقابلِ قبول ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ جیکب آباد میں ہمارے کارکنوں سے موٹرسائیکل اور موبائل فون چھینے گئے ہیں۔ ہم پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چھینی گئی اشیاء کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مساجد، امام بارگاہوں اور علماء کرام کی سیکورٹی کلوز ہونے پر شدید تحفظات ہیں۔ سندھ حکومت اور پولیس کے ذمہ داران اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کو حسبِ ضرورت سیکورٹی فراہم کریں۔

اس موقع پر سردارزادہ میر فائق علی خان جکھرانی، مولانا سید باقر شاہ شمسی، میر نجم دین خان جکھرانی، مولانا نصراللہ نجفی اور دیگر رہنما بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔

 

2:36 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top