اسرائیل کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے: وزارتِ خارجہ ایران

26 اکتوبر, 2025 11:21

شیعیت نیوز: تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے حالیہ فیصلے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو حاصل دائمی چھوٹ پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی ادارے اسرائیل کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی عدالت انصاف کی رائے ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ اسرائیلی حکومت مسلسل بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل، بطور قابض حکومت، اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تعاون کا پابند ہے تاکہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور اسے ان سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے سے باز رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے

اسماعیل بقائی نے کہا کہ عدالت نے بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی ممانعت کو بھی دہرایا ہے اور اسرائیل کی یہ ذمہ داری قرار دی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ عدالت نے جولائی 2024ء میں بھی ایک مشاورتی فیصلے میں اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرانی ترجمان کے مطابق اسرائیل نے ان تمام عالمی اصولوں کو نظرانداز کیا ہے اور اب وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت دونوں کے سامنے انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ نے بھی عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس میں اسرائیل پر غزہ میں 1948ء کے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

9:23 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top