اسرائیلی و امریکی حملوں کے باوجود ایران کی جوہری صلاحیت برقرار ہے، رافائل گروسی

23 اکتوبر, 2025 09:22

شیعیت نیوز: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود ایران کی جوہری مہارت ختم نہیں ہوئی اور اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی یورینیم کی افزودگی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی اخبار کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں رافائل گروسی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے فعال سفارتکاری کی صلاحیت کھو دی ہے، جو باعثِ تشویش امر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات میں اقوام متحدہ کا کردار تقریباً غائب ہوچکا ہے، اور اب تنازعات کا حل عالمی ادارے کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔
گروسی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کا مرکزی کردار دوبارہ بحال ہونا چاہیے تاکہ عالمی استحکام ممکن ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی عدالتِ انصاف کا اسرائیل کے خلاف نیا فیصلہ متوقع

گروسی نے ایران کے جوہری مراکز پر حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اصفہان، نطنز اور فردو میں شدید نقصان ضرور ہوا، مگر ایران کی تکنیکی مہارت اور سائنسی صلاحیت برقرار ہے۔
ان کے مطابق، ایران کے ماہرین اپنی سنٹریفیوجز دوبارہ تیار کرنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے — جوہری ہتھیار کے معیار سے کچھ کم۔ اگر یہ عمل جاری رہا تو ایران کے پاس تقریباً 10 جوہری بموں کے لیے مواد دستیاب ہوسکتا ہے، تاہم گروسی نے واضح کیا کہ ایران کے بم بنانے کے ارادے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

رافائل گروسی نے کہا کہ ایران فی الحال محدود پیمانے پر معائنوں کی اجازت دے رہا ہے، لیکن اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو انہیں طاقت کے دوبارہ استعمال کا خدشہ ہے۔

گروسی نے ایران کے رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ “12 روزہ جنگ کے بعد بھی ایران نے عالمی برادری سے تعلقات منقطع نہیں کیے، نہ ہی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے علیحدہ ہوا، حالانکہ وہ ایسا کرسکتا تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

3:40 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔