کراچی میں عوامی غضب: غزہ کی آزادی کے حق میں ایم ڈبلیو ایم کا احتجاجی مظاہرہ

04 اکتوبر, 2025 17:06

شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین کراچی پاکستان کے صدر مولانا شیخ محمد صادق جعفری نے کہا ہے کہ پاکستانی 25 کروڑ عوام ٹرمپ منصوبے کو سختی سے مسترد کرتی ہے، ہمیں ٹرمپ کا نہیں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا پاکستان چاہیے۔

مولانا صادق جعفری اور مولانا مبشر حسن نے گزشتہ روز نمازِ جمعہ کے بعد جامع مسجد حیدر کرار اورنگی ٹاؤن کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ نہ صرف فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے، بلکہ غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف یہود و نصاریٰ کی ایک منظم اور گہری سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ غزہ کو سیاسی طور پر تنہا، معاشی طور پر مفلوج اور انسانی سطح پر تباہ کرنے کی کوشش ہے اور وہاں کی مزاحمتی آواز کو مکمل طور پر خاموش کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کو سیاسی منظرنامے سے نکالنے کی کوشش ایک ناقابلِ قبول اقدام ہے جو بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے فلسطینی سرزمین کی تقسیم، انضمام اور غزہ کی علیحدگی کو ”حل” کے طور پر پیش کرنا اصل میں قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ غزہ پر جاری ناکہ بندی، معاشی پابندیاں اور مسلسل عسکری حملے اس منصوبے کے نفاذ کی عملی شکلیں ہیں جو غزہ کے لاکھوں مظلوم عوام کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مجاہدین ایسے کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے اور ٹرمپ کے ایجنڈے پر فلسطین کا سودا کرنے والے مسلم حکمران خیانت کار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سینیٹر مشتاق احمد کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، آئی ایس او

رہنماؤں نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کا قبضہ اور سینیٹر مشتاق احمد کی گرفتاری سمیت 150 سے زائد نہتے کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت اور ان کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ و صہیونی غاصب ریاست کی افواج نے سرزمین انبیاء فلسطین پر لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ہے، پاکستانی حکمران کچھ عرب بادشاہوں کی تقلید کر کے فلسطین کا سودا نہ کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین میں موجود مزاحمتی جماعتیں غاصب اسرائیل کے خلاف اپنا جائز دفاع کر رہی ہیں اور امریکہ و یورپی ممالک مشرق وسطیٰ کے امن کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ ٹرمپ کی امن تجاویزات کو عرب و مسلم ممالک کو مسترد کرنا چاہیے۔

رہنماؤں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، اسلامی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خطرناک اور غیر انسانی سازش کا حصہ بننے کے بجائے اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات وقت کی اولین ضرورت ہیں اور ہم فلسطین کی مکمل آزادی، القدس کو دارالحکومت بنانے اور پورے فلسطین میں عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ آخر میں شرکاء احتجاج نے امریکہ و اسرائیل کے پرچم نذرِ آتش کیے۔

9:09 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔