ٹرمپ کا حالیہ منصوبہ دراصل بدنام زمانہ "ڈیل آف سنچری” ہی کی نئی شکل ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

02 اکتوبر, 2025 21:04

شیعیت نیوز : چیئرمین مجلس وحدت مسلمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے نیشنل پریس کلب میں دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نہ صرف اسرائیلی جرائم میں برابر کا شریک ہے بلکہ ہر مرتبہ جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی قراردادوں کو ویٹو کر کے مظلوم فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ منصوبہ بدنام زمانہ "ڈیل آف سنچری” ہی کی نئی شکل ہے، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ ناصر جعفری نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے حکمرانوں نے ٹرمپ کا منصوبہ مکمل طور پر پیش ہونے سے پہلے ہی اس کی تائید کر دی اور بانی پاکستان کے اسرائیل کو ناجائز ریاست کہنے کے تاریخی قول کی نفی کر دی، جو دراصل اسرائیل کو بالواسطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو نہیں بلکہ خدا کو جوابدہ ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عرب حکمرانوں کی خاموشی فلسطینی نسل کشی کی بنیادی وجہ ہے، سید عبدالملک الحوثی

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن واضح پیغام دیتا ہے کہ کمزور اور مظلوم لوگوں کی مدد کے لیے اٹھو، مگر افسوس آج فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام تنہا ہیں۔ فلسطینی عوام اپنے حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور کشمیری عوام "کشمیر بنے گا پاکستان” کا نعرہ لگانے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

علامہ ناصر جعفری نے کہا کہ کشمیر میں منتخب حکومت کو گرایا گیا، عوام کی آواز کو دبایا گیا اور بربریت کا بازار گرم کیا گیا ہے جو ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔ اسلام آباد پولیس کو کشمیری مظاہرین کے خلاف استعمال کرنے اور پریس کلب میں صحافیوں پر بہیمانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب اپنے شہریوں کے ساتھ یہ رویہ ہو تو ہم دنیا کو کس منہ سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر آواز بلند کر سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی حکومت ہے جو عوام پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ کشمیریوں اور جی بی والوں کو ہماری نہیں بلکہ ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ جو بھی بلوچوں، کشمیریوں اور کے پی کے عوام کو ناراض کرتا ہے وہ پاکستان سے شدید دشمنی کر رہا ہے۔ اس لیے حکومت کو کشمیری قیادت اور تمام عوامی نمائندوں سے براہِ راست بات کرنی چاہیے۔

8:29 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔