نتن یاہو اچانک پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر روانہ، صیہونی میڈیا نے وجوہات بتا دیں
شیعیت نیوز: قدس اشغالی ┇ صیہونی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اچانک اپنی پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ دی اور نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔
یہ پریس کانفرنس اس وقت جاری تھی جب نتن یاہو نے قدس کے مضافات میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی صیہونی آبادکاری کے منصوبے E1 پر دستخط کیے۔
صیہونی میڈیا کے مطابق، نتن یاہو مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی بستی معالیہ ادومیم میں موجود تھے جہاں منصوبے پر دستخط کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ تاہم اچانک انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یہاں سے ایک ایسے معاملے کے باعث جانا ہوگا جس کی تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتا‘‘ اور فوری طور پر پریس کانفرنس چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کا اسرائیل پر بڑا حملہ: ہائپر سونک میزائل “فلسطین2” اور ڈرونز سے النقب و رامون ایئرپورٹ نشانہ
تاحال اس غیر متوقع فیصلے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ البتہ صیہونی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ نتن یاہو کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر تل ابیب کے سیکیورٹی ہیڈکوارٹر "کریا” منتقل کیا گیا۔ فلسطینی خبررساں ایجنسی سما کے مطابق، صیہونی ذرائع نے بتایا کہ نتن یاہو وزارت جنگ کے آپریشن کمانڈ سینٹر پہنچ گئے ہیں۔
اس سے قبل منصوبے پر دستخط کے وقت نتن یاہو نے کہا تھا کہ ’’معالیہ ادومیم اسرائیل کا حصہ ہے اور ہمیشہ اسرائیل کا حصہ رہے گا‘‘۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی مشرقی سرحد معالیہ ادومیم نہیں بلکہ وادی اردن ہے۔
مزید برآں، نتن یاہو نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسرائیل کسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔ اس کے بقول: ’’ہم پہلے ہی عہد کر چکے ہیں کہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی اور حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی ملک موجود نہیں ہے۔‘‘







