مولانا فضل الرحمٰن کا آیت اللہ اعرافی کے خط کا جواب اور اظہارِ تشکر
شیعیت نیوز : مدیرِ حوزۂ علمیہ آیت اللہ اعرافی نے بعض معروف شخصیات اور جید اسلامی علماء کو خطوط میں لکھا ہے کہ: "صیہونیوں کے جنگی جرائم سے دل غمگین اور اخوتِ اسلامی سے لبریز روح کے ساتھ یہ خط پیش کر رہا ہوں”۔
انہی جید افراد میں سے ایک امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان، مولانا فضل الرحمٰن بھی تھے، جنہوں نے مدیرِ حوزۂ علمیہ کے خط کا جواب ارسال کیا ہے۔ جس کا متن حسبِ ذیل ہے:
محترم جناب علی رضا اعرافی
مدیرِ حوزۂ علمیہ، جمہوری اسلامی ایران
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کا مخلصانہ اور برادرانہ خط موصول ہوا، جس کے لیے میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت میں آپ کے جذبات نہایت قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین ہیں۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ فلسطین کا معاملہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کا دینی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے دنیا بھر کے علمائے کرام، دانشوران، علمی مراکز اور اسلامی تحریکوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ حسن زادہ آملی کا خواب: امام رضا علیہ السلام کی زیارت اور علم کی بخشش
آپ کے خط میں جن قرآنی تعلیمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ ہم سب کے لیے راہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ جمہوریۂ اسلامی ایران کی علمی و دینی قیادت کا اس سلسلے میں مؤقف عدل، آزادی اور انسانی وقار کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
بین الاقوامی سطح پر مظلوم اہلِ غزہ کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے آپ کی اپیل کی ہم پوری طرح تائید کرتے ہیں اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کسی بھی ممکنہ تعاون میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
اس موقع پر ہم دنیا بھر کے مسلم ممالک، بین الاقوامی علمی و فکری اداروں اور تمام آزادی پسند قوموں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اہلِ غزہ کے محاصرے کو ختم کرنے کے لیے عملی تعاون اور اخلاقی حمایت اپنا دینی اور انسانی فریضہ سمجھیں۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ امتِ مسلمہ باہمی اتحاد و یکجہتی کے ساتھ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے تاکہ قبلۂ اول کی آزادی کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کی حمایت، مظلوموں کی نصرت اور امتِ اسلام کے اتحاد میں مؤثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کا مخلص
فضل الرحمٰن
امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان







