پانی سر سے گزرنے سے پہلے عرب حکمران بیدار ہوں: سید عبدالملک الحوثی

31 جولائی, 2025 19:09

شیعیت نیوز : یمنی تنظیم انصاراللہ کے رہنما سید عبدالملک الحوثی نے صہیونی حکومت سے درپیش خطرے کے حوالے سے عرب دنیا کی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ صہیونی مظالم کے سامنے عرب حکمرانوں کی خاموشی ناقابل قبول ہے۔

الحوثی نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو بدترین انسانی سانحہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ صہیونی افواج فلسطینی شیرخوار بچوں تک کو نشانہ بنا رہی ہیں اور بھوک سے شہید ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی جارحیت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ خواتین کو زچگی کے دوران بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، غزہ میں عوام قحط، جبری نقل مکانی اور بندش کا شکار ہیں، اور محفوظ علاقوں میں بھی محصور کیے جا رہے ہیں۔

انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ صہیونی حکومت اپنی مجرمانہ حقیقت کو پروپیگنڈا جنگ کے ذریعے خوبصورت دکھانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ ناکام ہے۔

الحوثی نے تنقید کی کہ عرب حکمران عوام کو غزہ کے حق میں کوئی عملی قدم اٹھانے سے روکتے ہیں، جبکہ اپنے فضائی راستے اور ہوائی اڈے صہیونی حکومت کے لیے کھولے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی فضائی حدود اور ہوائی اڈے اسرائیل کے لیے کھلے ہیں اور اقتصادی تعاون جاری ہے، جبکہ غزہ میں معصوم شیرخوار بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی فوج ان فلسطینیوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے روٹی تلاش کرتے ہیں، اور مرنے والے صرف محاذ جنگ پر نہیں بلکہ بھوک مٹانے کی کوشش میں بھی شہید ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی پارلیمانی اسپیکر نے اسرائیلی رہنما کو غزہ میں بچوں کی بھوک جھوٹ قرار دینے پر بے نقاب کر دیا

الحوثی نے مغربی دنیا کے انسانیت کے دعوے کھوکھلے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرمناک ہے کہ وہ انسانیت کی علمبرداری کا دعویٰ کرتے ہیں مگر غزہ کے بچوں کی حالت پر خاموش ہیں۔

انہوں نے غزہ کے لیے فضائی امداد کو نیا صہیونی فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امداد سرخ زون میں گرائی جاتی ہے جہاں فلسطینیوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، اس لیے یہ امداد دراصل دھوکہ ہے۔

الحوثی نے اعلان کیا کہ یمن کی جانب سے صہیونی بندرگاہ ایلات کی ناکہ بندی اور چوتھے مرحلے کے بحری محاصرے کا آغاز دشمن پر کاری ضرب ہے اور ہر کمپنی جو اسرائیل سے تجارت کرے گی نشانہ بنائی جائے گی۔

انہوں نے عرب دنیا کی درسگاہوں سے سوال کیا کہ جب صنعاء یونیورسٹی فلسطین کی حمایت میں ریلی نکال سکتی ہے تو دیگر عرب ممالک کی جامعات خاموش کیوں ہیں؟ فلسطین کا مسئلہ یمن کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے یمنی عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر ہفتے بھرپور مظاہروں میں حصہ لیتے رہیں کیونکہ میدان میں موجودگی دشمن کی سب سے بڑی شکست ہے۔

10:11 شام اپریل 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔