پوسٹمارٹم رپورٹ میں گلا دبا کر قتل کی تصدیق، سدرہ کیس میں 7 ملزمان زیر حراست
علاقہ مجسٹریٹ نگرانی میں قبر کشائی، پولیس نے جرگے کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان بھی پکڑے

شیعیت نیوز : ڈان نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ 18 سالہ سدرہ کو جرگے کے حکم پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پوسٹمارٹم رپورٹ سے لڑکی کو گلا دبا کر مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق لڑکی کے سر اور چہرے پر تشدد کے نشانات تھے اور منہ نیلا پڑ چکا تھا۔
قبل ازیں پیرودھائی قبرستان میں علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں مقتولہ سدرہ کی قبر کشائی کا عمل مکمل کیا گیا تھا، پولیس نے جرگے کے سربراہ سمیت مزید 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
میڈیکل ٹیم نے مقتولہ کے جسم کے نمونے حاصل کر لیے۔ قبر کشائی کے وقت میڈیکل ٹیم، میٹروپولیٹن اور پولیس کا عملہ موقع پر موجود رہا۔ قبر کی نشاندہی کے لیے گرفتار ملزمان کو بھی لایا گیا تھا، بعد ازاں انہیں واپس تھانے منتقل کر دیا گیا۔
پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی دو رکنی ٹیم بھی نمونے لینے کے لیے پیرودھائی قبرستان پہنچی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : ریکوڈک منصوبہ اور معدنی وسائل: پاکستان، امریکہ تجارتی معاہدے کے قریب
قبر کشائی کے وقت قناطیں اور حفاظتی حصار قائم کیے گئے۔ ملزم گورکن راشد محمود نے علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کی نشاندہی کی۔
ہولی فیملی ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نے بھی ڈیڈ باڈی کے نمونے حاصل کر کے فرانزک لیب کو بھجوادیے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے 16 اور 17 جولائی کی شب مقتولہ کو قتل کرنے کے بعد لاش کو صبح کے وقت قبرستان میں دفنایا تھا۔ خاتون کی تدفین کے بعد گورکن اور دیگر 25 افراد نے قبر کے شواہد مٹا دیے تھے۔ اس وقت 3 ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔
قبر کشائی کے بعد راولپنڈی پولیس نے سابق وائس چیرمین عصمت اللہ سمیت مزید 4 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی، جس کے بعد گرفتار ملزمان کی تعداد 7 ہو گئی ہے۔ گورکن، قبرستان کمیٹی کا سیکریٹری اور ایک رکشہ ڈرائیور پہلے ہی زیر حراست ہیں۔
واضح رہے کہ مقتولہ سدرہ کا مبینہ دوسرا نکاح 14 جولائی کو مظفرآباد میں عثمان سے ہوا تھا۔ عثمان پیرودھائی پولیس کے سامنے پیش ہوا، اور مقتولہ کے سسر محمد الیاس کے ویڈیو بیان میں بتایا گیا کہ سدرہ حافظہ قرآن تھی، اس کے والد فوت ہو چکے اور والدہ نے اس کے چچا سے شادی کر لی تھی۔ چچا اس کی شادی بڑی عمر کے شخص سے کروانا چاہتا تھا، جس پر اہل خانہ میں کشیدگی بڑھ گئی۔ نکاح کے 3 دن بعد 8 سے 10 مسلح افراد عثمان کے گھر مظفرآباد پہنچے، سدرہ کو زبردستی راولپنڈی لے آئے اور قتل کر دیا۔