فرانسیسی صدر کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان
شیعیت نیوز: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے نے بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں کینیڈا، آئرلینڈ، اسپین سمیت متعدد ممالک نے اس اقدام کو سراہا ہے، وہیں امریکہ اور اسرائیل نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔
کینیڈا بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے تیار
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک بھی جلد فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کو یقینی بنائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اوٹاوا تمام بین الاقوامی فورمز پر، بشمول اقوام متحدہ، اس مقصد کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : رہبر انقلاب کا شہداء کے چہلم پر اہم پیغام: سات بنیادی ذمہ داریاں بیان
کارنی نے غزہ میں اسرائیلی کابینہ کی ناکامی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ انسانی بحران کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
آئرلینڈ اور اسپین کا مثبت ردعمل
آئرلینڈ کے وزیر خارجہ نے فوری جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے فرانسیسی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے دو ریاستی حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے بھی فرانسیسی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت کا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر اس حل کا دفاع کرنا ہوگا، کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اسے ختم کرنے کے درپے ہیں۔
وزراء کی فلسطین کو تسلیم کرنے کی اپیل
ادھر بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ برطانیہ کی کابینہ کے کئی وزراء، بشمول وزرائے صحت، انصاف اور ثقافت نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے عمل کو جلد از جلد شروع کیا جائے۔
غاصب اسرائیل اور امریکہ کا شدید ردعمل
غاصب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانسیسی اقدام کو "دہشت گردی کے لیے انعام” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ ایران کے زیر اثر ایک نیا خطرناک مرکز قائم کرنے کی راہ ہموار کرے گا، جو اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈالے گا۔
قابض اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے بھی فرانسیسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب کبھی بھی ایک ایسی فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا جو اسرائیل کی سلامتی اور یہودیوں کے تاریخی حقوق کے خلاف ہو۔
امریکہ بھی فرانس کے فیصلے پر ناراض
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ہونے والے دو ریاستی حل کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے فرانسیسی اقدام کو "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حماس کے بیانیے کو تقویت دے گا اور امن عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔
یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرے گا۔







