برطانیہ، میوزک فیسٹیول میں "صہیونی فوج مردہ باد” کے نعرے
گلاسٹنبری فیسٹیول میں فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر باب ویلن کو تنقید، تفتیش اور امریکی پابندیوں کا سامنا

شیعیت نیوز : غزہ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف وحشیانہ جرائم کے منظر عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں صہیونیوں کے خلاف نفرت کی ایک وسیع لہر پیدا ہوئی ہے جس کے اثرات بین الاقوامی فورمز اور مختلف محافل میں واضح دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے میں برطانوی گلوکار باب ویلن نے سمرسٹ کاونٹی میں سالانہ ہونے والے مشہور گلاسٹنبری میوزک فیسٹیول میں اسٹیج پر آ کر حاضرین کو "آزاد فلسطین” کے نعرے لگانے کی دعوت دی۔
باب ویلن نے برطانیہ اور امریکہ کو اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور امید ظاہر کی کہ ایک دن فلسطینی عوام صہیونی ظلم سے آزاد ہو جائیں گے۔ بعد ازاں انہوں نے "اسرائیلی فوج مردہ باد” کا نعرہ بلند کیا، جسے حاضرین نے بھی زور سے دہرایا۔ یہ واقعہ نہ صرف برطانوی بلکہ مغربی اور خطے کے دیگر میڈیا میں بھی ایک اہم خبر بن گیا۔
برطانیہ میں صہیونی سفارت خانے نے ان نعروں کو اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ باب ویلن کے نعرے اور بیانات یہودیوں کے خلاف نسل کشی کے لیے اکسانے کے مترادف ہیں۔
بی بی سی نے اس پروگرام کو براہ راست نشر کیا لیکن بعد میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے نعرے اس کے پروگراموں میں قابل قبول نہیں ہیں۔
برطانوی پولیس نے باب ویلن اور آئرلینڈ کے میوزک بینڈ "کی نی کپ” کے خلاف ایک کریمنل انویسٹی گیشن شروع کر دی ہے۔ اسی طرح، امریکی وزارت خارجہ نے باب ویلن کا ویزا منسوخ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس سال کے آخر میں امریکہ میں شیڈول کنسرٹس میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے دارالحکومت صنعا میں فلسطین کے حق میں تاریخی مظاہرہ
انسانی حقوق اور آزادی اظہار پر مغرب کا دوہرا معیار
مغربی میڈیا نے روایتی دوغلا پن کا ثبوت دیتے ہوئے گلاسٹنبری میوزک فیسٹیول میں پیش آنے والے واقعے کی رپورٹنگ کرتے وقت غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم اور نسل کشی کو نظر انداز کر دیا، اور برطانوی گلوکار باب ویلن کی فلسطینیوں کے حق میں بات کرنے پر شدید تنقید کی۔
غزہ میں صہیونی فوج کے مظالم پر رونے والے بچوں، سسکیاں لیتی ماؤں، اور جنازے اٹھانے والے والدین کے مناظر پر مغربی میڈیا خاموش رہا۔ باب ویلن کی جانب سے صہیونی جرائم پیشہ فوج کے خلاف نعروں پر انسانی حقوق کے چمپئن میدان میں آ گئے اور واقعے کی مذمت میں آسمان سر پر اٹھا لیا۔
برطانوی صحافی جوناتھن کک نے مغربی میڈیا کی دوغلی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئیے تمام باتوں کو ایک طرف رکھ کر یہ سوال کریں کہ تل ابیب کا غزہ کے لیے اصل منصوبہ کیا ہے؟ وہ منصوبہ جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کہتی ہے کہ وہ غزہ کے بے گھر اور بھوکے لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمام فلسطینیوں کو جنوب غزہ میں اکٹھا کیا جائے اور پھر کوئی ضمانت نہیں کہ ان پر بمباری نہ کی جائے۔
غزہ میں بھوک سے مرنے والے بچوں کی لاشیں، خوفناک مناظر، اور بے سہارا مہاجرین کا قتل، جو اپنے بچوں کے لیے ایک نوالہ ڈھونڈ رہے تھے، یہ سب مغربی میڈیا کی نظر سے اوجھل ہیں۔ وہ ان مظالم کی مذمت کی ہمت نہیں رکھتے لیکن جب ایک غیر جانبدار گلوکار صرف اتنا کہتا ہے کہ وہ مظلوموں کی حمایت کرتا ہے اور ان پر ہونے والے ظلم بند ہونے چاہئیں، تو مغربی میڈیا اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور یہود دشمنی کا الزام لگا دیتا ہے۔
دوسری جانب، عالمی اداروں اور مغربی میڈیا کے اس خاموش رویے کے باعث، صہیونی آبادکار اور فوجی پہلے سے زیادہ بے خوف ہو کر فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے کر رہے ہیں اور اپنی دہشت گردی کو بغیر تعطل کے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
برطانوی وزیر وس اسٹریٹنگ نے اسرائیلی سفارت خانے کے اس الزام پر، کہ گلاسٹنبری فیسٹیول میں تشدد کی حمایت کی جا رہی ہے، سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سفارت خانے کو پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صہیونی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف خوفناک اور ظالمانہ حملے کر رہے ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ کی آزاد رکن زہرہ سلطانہ نے بھی چند روز قبل کہا کہ وہ اس دن کا انتظار کر رہی ہیں جب امریکہ اور برطانیہ آزادی اظہار پر پابندی عائد کرنے کے بجائے صہیونی نسل کشی کی حمایت سے ہاتھ کھینچیں اور اسرائیلی فوج کے جرائم کی بھرپور مذمت کریں۔