IAEA مغربی ایجنڈے کا آلہ، اسرائیل کی ایٹمی جارحیت پر خاموشی دوہرے معیار کا ثبوت ہے: ایوانز

04 جولائی, 2025 15:10

شیعیت نیوز: صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر حملے نے عالمی سطح پر ایٹمی عدم پھیلاؤ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے کردار پر شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس جنگ نے واضح کر دیا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا اصل مقصد دنیا میں ایٹمی انصاف کو فروغ دینا نہیں بلکہ مغربی سامراجی تسلط کو برقرار رکھنا، دیگر اقوام کو کمزور رکھنا اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کو صرف مغربی طاقتوں تک محدود رکھنا ہے۔

12 روزہ جنگ سے قبل IAEA کے گورننگ بورڈ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے اور معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دینے کے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر، اس قرارداد کے صرف چند گھنٹوں بعد اسرائیل، جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں واحد ایٹمی ریاست ہے جس نے آج تک NPT پر دستخط نہیں کیے، نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی جوہری صلاحیت بدستور قائم ہے، پینٹاگون

اس حملے اور اس کے بعد عالمی ردعمل نے IAEA کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ گروسی کا بیان محض "گہری تشویش” تک محدود رہا، جو نہ صرف غیر مؤثر بلکہ اسرائیلی جارحیت کے لیے بالواسطہ جواز فراہم کرنے کے مترادف تھا۔

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے معروف مصنف ڈیلن ایوانز نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ IAEA کو ایک غیرجانبدار ادارہ قرار دینا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایجنسی مغربی طاقتوں، بالخصوص امریکہ کے شدید اثر و رسوخ میں کام کرتی ہے، جس کے باعث اس کے فیصلے یکطرفہ اور تعصب پر مبنی ہوتے ہیں۔

ایوانز کے مطابق، IAEA نے گزشتہ پانچ برسوں میں ایران کے خلاف پانچ قراردادیں منظور کیں، مگر اسرائیل کے ایٹمی پروگرام پر آج تک کوئی قرارداد پیش نہیں کی گئی، حالانکہ اسرائیل نے نہ تو NPT پر دستخط کیے ہیں اور نہ ہی ڈیمونا جیسے ایٹمی تنصیبات کو کسی عالمی نگرانی کے تابع کیا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2018 میں اسرائیل نے ایران کے خلاف مبینہ ایٹمی شواہد IAEA کو فراہم کیے، جس کی بنیاد پر ایران کی پرامن سرگرمیوں پر شکوک و شبہات پیدا کیے گئے اور مزید معائنے شروع ہو گئے۔ حیران کن طور پر، ایجنسی نے ان شواہد کو قبول کر لیا، حالانکہ اسرائیل ایک جارح ریاست ہے اور خود ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے۔

ایوانز نے وکی لیکس کی 2010 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکیا آمانو، جو اس وقت IAEA کے سربراہ تھے، امریکہ کے قریبی اتحادی تصور کیے جاتے تھے، اور انہوں نے ایران سے متعلق حساس معلومات مغربی خفیہ ایجنسیوں اور CIA سے شیئر کیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایران عالمی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے باوجود اس کے کہ اس کے خلاف کوئی مستند یا معتبر ایٹمی خطرے کی دلیل پیش نہیں کی جا سکی۔ جبکہ اسرائیل پر نہ کوئی بین الاقوامی دباؤ ہے اور نہ کوئی قرارداد۔ مردخای وانونو کی 1980 کی دہائی میں دی گئی شہادتیں اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ اسرائیل ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے، لیکن دنیا خاموش ہے۔

ڈیلن ایوانز نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو "ایٹمی نسلی امتیاز” پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ اگر آپ امریکہ کے اتحادی ہیں تو ایٹمی ہتھیار رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر مخالف ہیں تو پرامن توانائی بھی نہیں حاصل کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ IAEA اب عالمی سلامتی کی محافظ نہیں رہی بلکہ یہ سامراجی ایجنڈے کے نفاذ کا آلہ بن چکی ہے۔

8:11 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔