اسرائیل کا جنگ بندی کے لئے امریکی تجویز قبول کرنے کا اعلان، جبکہ حماس کی جانب سے تجویز زیر غور
جنگ بندی تجویز میں 10 قیدیوں کی رہائی شامل ہے، مسودے کے مطابق قیدیوں کی رہائی دو مرحلوں میں ایک ہفتے کے دوران ہوگی

شیعیت نیوز : اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی کے لیے امریکا کی نئی تجویز قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
نیتن یاہو نے اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ کو بتایا ہے کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی مندوب کی نئی تجویز موصول ہوگئی ہے اور وہ اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ویٹکوف نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی ہے، اس جنگ بندی تجویز میں 10 قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔
قیدیوں کی رہائی دو مرحلوں میں ایک ہفتے کے دوران ہوگی، حماس کو 18 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کرنا ہوں گی، اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی 22 نئی یہودی بستیوں کے قیام کا اعلان سامنے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : شیعہ علماء کونسل ضلع ملتان کی کابینہ کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا
اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ اسرائیل کی مشرقی سرحد کو مضبوط بنانے اور شمالی علاقے میں آبادکاری بڑھانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے وزیر ہامیش فالکنر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ اعلان عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 54 ہزار 249 فلسطینی شہید، 1 لاکھ 23 ہزار 492 زخمی ہوچکے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان پہلا جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری کو طے پایا تھا۔
18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے معاہدے کو یک طرفہ توڑتے ہوئے غزہ پر دوبارہ وحشیانہ حملے شروع کر دیئے گئے تھے۔