امریکا یورینیم کی افزودگی ختم کرنا چاہتا ہے تو کوئی جوہری معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ

24 مئی, 2025 10:47

شیعیت نیوز : ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کا پانچواں دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا، تاہم دونوں فریقین نے آئندہ بھی مذاکرات جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اگر امریکا یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر ختم کروانا چاہتا ہے، تو پھر کسی قسم کا جوہری معاہدہ ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کی خواہش نہیں رکھتا۔

ایران کی جانب سے اس سخت مؤقف کے باوجود امریکی حکام نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سکھ تنظیم کا بین الاقوامی سطح پر ننکانہ صاحب پر بھارتی ڈرون حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

امریکی نمائندوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن دونوں جانب کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے لایا جا سکے۔

مذاکراتی عمل میں بار بار رکاوٹوں کے باوجود فریقین کی آئندہ ملاقات پر آمادگی اس امر کا اشارہ ہے کہ عالمی برادری کے دباؤ اور باہمی مفادات کی روشنی میں یہ مکالمہ جاری رہ سکتا ہے۔

اس حالیہ دور میں تکنیکی امور اور ممکنہ پابندیوں کے خاتمے جیسے حساس معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، تاہم یورینیم کی افزودگی کا معاملہ مرکزی تنازع کی صورت میں ابھرا، جس پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا۔

2:03 شام اپریل 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔