مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی سیاست: اسرائیل کو چھوٹ اور ایران پر پابندیاں

16 اپریل, 2026 13:14

شیعیت نیوز: جب بات مشرقِ وسطیٰ کے دو بڑے حریفوں، اسرائیل اور ایران کی آتی ہے تو دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین کے اطلاق پر اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایران کا ایٹمی پروگرام شدید عالمی جانچ پڑتال، پابندیوں اور سفارتی مذاکرات کا مرکز رہا ہے، لیکن اس کے برعکس اسرائیل کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہے، مگر اس پر شفافیت کے لیے کوئی خاص بین الاقوامی دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔

یہ ایک کھلا راز ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کا واحد ملک ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم اسرائیل نے کئی دہائیوں سے اس معاملے پر خاموشی کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جسے “اوپیسٹی” یا مبہم پالیسی کہا جاتا ہے۔

2018 میں ایک انٹرویو کے دوران جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ایٹمی صلاحیت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم اسے متعارف کروانے والے پہلے ملک نہیں ہوں گے، اور ہم نے ایسا ہی کیا، یہ بہترین جواب ہے جو آپ کو مل سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد 1950 کی دہائی میں بانی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان کے دور میں رکھی گئی تھی، جس میں فرانس نے اہم تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔

صحرائے نقب میں واقع دیمونا ایٹمی پلانٹ کے بارے میں طویل عرصے سے شبہ ہے کہ وہاں ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم تیار کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل کے پاس 80 سے 200 تک ایٹمی وار ہیڈز ہو سکتے ہیں، تاہم درست تعداد کسی کو معلوم نہیں۔

1986 میں دیمونا پلانٹ کے ایک ٹیکنیشن مردخائی وانونو نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے برطانوی اخبار کو تصاویر فراہم کی تھیں، جس کے بعد اسرائیلی ایجنٹوں نے انہیں اغوا کیا اور وہ 18 سال جیل میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں : کامیڈی الرٹ: صیہونی بوکھلاہٹ کی انتہا “ابراہیم ذوالفقاری” کو اے آئی (AI) قرار دے دیا!

اسرائیل نے تاحال ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے عالمی معاہدے (نان پرو لیفریشن ٹریٹی) پر دستخط نہیں کیے، جس کی وجہ سے وہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو جوابدہ نہیں ہے۔

دوسری جانب ایران کا ایٹمی پروگرام 1950 کی دہائی میں سابق حکمران رضا شاہ پہلوی کے دور میں امریکا کے تعاون سے شروع ہوا تھا، جس میں 1979 کے انقلاب کے بعد کافی ترقی ہوئی۔

ایران “این پی ٹی” کا دستخط کنندہ ہے اور اس کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ اس کا پروگرام صرف بجلی کی پیداوار اور طبی مقاصد جیسے سویلین کاموں کے لیے ہے۔ ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ نگرانی کے معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں اور وہ باقاعدگی سے معائنہ کاروں کو رسائی دیتا رہا ہے۔

2015 میں ایران نے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جسے جے سی پی او اے کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کو 3.67 فیصد تک محدود رکھنے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو روزانہ کی بنیاد پر رسائی دینے پر اتفاق کیا تھا۔

عالمی ایجنسی نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے اپنے وعدے پورے کیے، مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ ہو گیا، جس کے بعد ایران نے دوبارہ افزودگی کی سطح بڑھا دی۔

امریکا اور اسرائیل نے گزشتہ برسوں کے دوران ایران کے خلاف مختلف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور عالمی سطح پر توانائی بحران جیسے اثرات بھی سامنے آئے۔

ان حملوں کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب ہے، مگر امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس نے کانگریس کو بتایا کہ امریکا کی تشخیص کے مطابق ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا، اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی ایسے کسی پروگرام کی اجازت نہیں دی تھی، بلکہ انہوں نے 2003 میں ایٹمی ہتھیاروں کو اسلامی قانون کے خلاف قرار دے کر ممنوع قرار دیا تھا۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار احمد نجار نے کہا کہ اسرائیل کو ایک مغربی اتحادی ہونے کی وجہ سے عالمی قوانین میں رعایت دی جاتی ہے، جبکہ ایران کو “دشمن” سمجھ کر زیادہ دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اصولوں کا اطلاق اکثر انتخابی بنیادوں پر ہوتا ہے، یعنی کچھ معاملات میں سختی سے عمل کیا جاتا ہے اور کچھ میں خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک اسٹریٹجک مفادات کو بین الاقوامی قانون پر ترجیح دی جاتی رہے گی، اسرائیل کا ایٹمی پروگرام جانچ پڑتال سے محفوظ رہے گا اور ایران جیسے ممالک کو سخت نگرانی اور دباؤ کا سامنا رہے گا۔

3:20 شام اپریل 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔