اہم ترین خبریںپاکستان

کیا پاکستانی مفتیان کا فتویٰ ڈالر یا ریال پر چلتا ہے؟ ڈیڑھ سال سے کونسی نیند سوئے ہوئے تھے؟

اسلام آباد میں غزہ و فلسطین کے حق میں ہونے والی کانفرنس میں کسی شیعہ عالم یا مقاومت حامی صحافی کو دعوت ہی نہیں دی گئی

شیعیت نیوز : مجلسِ اتحادِ امت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قومی فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی جس میں شیعہ مکتب فکر کے علاوہ دیوبند، بریلوی اور اہل حدیث تینوں مکاتب فکر کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی۔

تمام مکاتب فکر کے نامور مفتیان نے مسلم حکومتوں پر اسرائیل کے خلاف جہاد فرض قرار دینے کا فتویٰ بھی جاری کردیا۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمٰن نے یہ فتویٰ ایسے وقت میں جاری کیا ہے کہ جب اسرائیل کی غزہ پر بمباری کو ڈیڑھ برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔

غزہ شہر مکمل خاک کاڈھیر بن چکا ہے اور 50 ہزار سے زائد بے گناہ بچے، بوڑھے اور جوان شہید ہوچکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستانی مفتیان کرام کس اسلامی حکمرانوں کو جہاد کی فرضیت کا فتوا سنا رہے ہیں؟

کیا ان مفتیان کرام کا مخاطب اردگان ہے یا جولانی؟ فتاح سیسی ہے یا شاہ عبداللہ ؟ آصف زرداری ہے یا شھباز شریف ؟

اور المیہ اور لطیفہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں غزہ و فلسطین کے حق میں ہونے والے تماشے میں کسی شیعہ عالم یا محور مقاومت کے حامی کسی صحافی کو دعوت ہی نہیں دی گئی؟

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی نظریں پاکستان کے ذخائر پر ہیں، علامہ جواد نقوی

جبکہ اندھے کو بھی نظر آئے گا کہ اس وقت اقصی و فلسطین کے لئے عملا ًجانی ،مالی ،اخلاقی حمایت اور قربانیاں کون دے رہا ہے؟

سوائے ایران ۔ عراق ۔ لبنان اور یمن کے کون ہے جو میدان عمل میں ہے؟

جب تک امت کے مفتیان کرام یہ منافقت ختم نہیں کرتے تب تک امت کا زوال ہی زوال رہے گا۔

واضح رہے کہ اس کانفرنس میں شیعہ قیادت کو نہ بلانے کا واحد کھلا پیغام یہ ہے کہ پاکستان فلسطین پر عربوں کے ساتھ ہے۔

ایران و محاذ مقاومت کے موقف کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں لہذا پاکستان کے شیعہ عوام یا تو قربانیوں کے لئے تیار ہوجائیں یا عربوں کی فلسطین پر خیانت میں پاکستان کو حصہ بنتا دیکھ کر خاموش رہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button