لینڈ ریفارمز عوامی امنگوں کے عین مطابق ہو تو بھرپور ساتھ دیں گے، کاظم میثم
شیعیت نیوز : محمد کاظم میثم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پہاڑوں کو لیز پہ دینے کے حوالے سے ہم ایک سال سے چیختے رہے لیکن ہمارے احتجاج کو سیاسی رنگ دیکر جھٹلانے کی کوشش ہوتی رہی۔
ضلع سکردو سے پچاس جگہوں کی لیز پروسز میں ہے جبکہ گلتری سمیت کھرمنگ سے بیس سے مقامات کو بھی لیز کے لیے پروسز میں ڈال دیا گیا ہے۔
میرے حلقے میں حکومت نے عوام کو ایک ٹیچر کے ٹرانسفر پہ لگا کر سدپارہ اور گمبہ کے پانچ سے زائد مقامات کو لیز پہ دیا ہے۔
موجودہ لیز پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ خطے کو بحران کی طرف نہ دھکیلیں۔
بل پر عوامی تحفظات برقرار رہے تو آئینی ترمیم کی طرز پر زبردستی پاس کرانے کا مشورہ دینے والوں کو عوام رسوا کر دیں گے۔
لینڈ ریفارمز عوامی امنگوں کے عین مطابق ہو تو بھرپور ساتھ دیں گے۔
گلگت بلتستان میں ادارے یکطرفہ ہونے کی بجائے عدل و انصاف قائم کرنے اور عوامی اعتماد کی بحالی میں کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں موجود معدنیات یہاں کے باسیوں کی ملکیت ہیں، شیخ احمد علی نوری
عوامی ترجمانی اور مقتدر ایوان کے اہم بینچ کو نظرانداز کیا گیا تو پانچ جولائی سے اب تک کی وارداتوں کا وائٹ پیپر شائع ہو گا۔
افسوس ہوتا ہے کہ اتنی بھی کیا مجبوری ہے کہ اس خطے کی بربادی کا سامان فراہم کریں۔
یہ عوام یہ خطہ ہمارا ہے تو ہماری سیاست اور کرسی ہے ورنہ فلسطین ہمارے سامنے ہے۔
جان جاتی ہے چلی جائے لیکن اس خطے کو بیچنے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کریں گے۔
حکومت اور اتحادی جماعت اپنی پوزیشن واضح کر دے کہ وہ یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا اس خطے کے سوداگر کے ساتھ؟
گلگت بلتستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت آخری دم تک کرتے رہیں گے۔







