قائداعظم نے فلسطین کی حمایت میں بھی قرارداد پیش کی تھی، علامہ باقر زیدی
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے صوبائی صدر علامہ باقر عباس زیدی نے کہا ہے کہ قائداعظم مسلم دنیا کے وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے نہ صرف 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی بلکہ اس موقع پر فلسطین میں غاصب جعلی ریاست اسرائیل کے قیام کے لیے جاری ناپاک صیہونی سازشوں کا پردہ بھی چاک کیا اور قرارداد پاکستان کے ساتھ ساتھ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں بھی قرارداد پیش کی۔
23 مارچ تاریخی دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ ریاست کے قیام کی بات کی۔ قرارداد پاکستان کے ذریعے یہ حقیقت تسلیم کی گئی کہ مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک الگ ریاست کے مستحق ہیں۔ استعماری طاقتوں نے ہمیشہ خطے میں بدامنی اور خلفشار کے لیے شیطانی ایجنڈا رکھا، جس کی واضح مثال اسرائیلی ناجائز ریاست کا قیام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ انسانی حقوق کی فراہمی میں ناکام، مقبوضہ فلسطین اور کشمیر اس کا ثبوت ہیں – علامہ ساجد نقوی
علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی میں جہاں پاکستان کے قیام کی جدوجہد نظر آتی ہے، وہیں ساتھ ساتھ مظلوم فلسطینیوں کے دفاع کی جدوجہد بھی نظر آتی ہے۔ آپ نے ہمیشہ فلسطین میں قائم کی جانے والی جعلی ریاست اسرائیل کے لیے ہونے والی تمام تر برطانوی و مغربی کوششوں پر اپنا شدید ردعمل دیا۔
تاہم بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات سے یہ درس ملتا ہے کہ فلسطین کا دفاع دراصل پاکستان اور اسلام سمیت پوری انسانیت کا دفاع ہے۔ حکمرانوں سمیت ملک میں بسنے والی ہر اکائی بابائے قوم سے تجدید عہد کرتے ہوئے ان کے مشن کو جاری رکھیں گی اور پاکستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔







