خیبرپختونخوا حکومت تکفیریوں کے سامنے بے بس ،رٹ قائم کرنے میں ناکامی! کُرم کیلئے امدادی سامان تیسرے روز بھی روانہ نہ ہوسکا

06 جنوری, 2025 17:36

 شییعت نیوز:ضلع کرم میں حالات بدستور کشیدہ ہونے سے متاثرہ علاقوں میں خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہوگئی، ضلع کیلئے تیسرے روز بھی امدادی سامان روانہ نہ ہوسکا اور 80 ٹرک کھڑے رہ گئے۔

ادھر مندوری میں دھرنا شرکا نے اٹھنے سے انکار کر دیا جبکہ امن معاہدے پردستخط نہ کرنے پر3عمائدین گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سامان سے لدی گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو تحصیل ٹل سے کرم کی جانب تاحال روانہ نہیں کیا جاسکا، خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت حساس علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔

یہ بھی پڑھئیے: تکفیریوں کے حامی بیرسٹر سیف کی دہشتگردوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش بے نقاب، کانوائے حملہ مقدمہ میں معاویہ گروپ کے پانچ دہشتگرد نامزد

صوبائی حکومت کے مطابق ٹل سے پارا چنار اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی پر مشتمل ٹرکوں کے قافلے روانہ کرنے کے انتظامات جاری ہیں، 80 گاڑیوں پر مشتمل امدادی قافلہ جلد پارا چنار روانہ کیا جائے گا۔

ادھر ضلع انتظامیہ کے مطابق امن معاہدے پردستخط نہ کرنے پر3عمائدین کو گرفتار کرلیا گیا، سیدرحمان، سیف اللہ، کریم خان نے تاحال امن معاہدے پردستخط نہیں کیے۔

ضلع انتظامیہ کے مطاب قاپیکس کمیٹی کے فیصلوں پرعمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ اشیائے ضروریات پورا کرنے اور قافلہ پارا چنار پہنچانے کیلئے حساس علاقوں میں کرفیو نافذ ہوگا۔

پولیس کے مطابق پارا چنار میں جاری دھرنا ملتوی کردیا گیا اور شرکاء نے روڈ کو آمد و رفت کیلئے کلیئر کر دیا ہے، روڈ کلیئر ہوتے ہی چھپری سے پاراچنار کی جانب قافلہ روانہ کیا جائے گا۔

صدر انجمن تاجران کے مطابق 80 گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں تمام سامان تاجر برادری کا ہے، حکومت اس کو امدادی قافلہ سمجھ رہی ہے لیکن اس میں ایک گاڑی بھی حکومت کی نہیں۔

دوسری جانب ضلع کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے اہم اقدام کیا ہے، جس کے مطابق مشران کو امن معاہدے کے حوالے سے جوابدہ بنایا جائے گا۔

جاری اعلامیہ کے مطابق قافلے پر حملے میں ملوث ملزمان اور سرپرستوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر کے قافلے پر حملے کے بعد امن معاہدے پر دستخط کرنے والے عمائدین سے باز پرس ہوگی۔

امن معاہدے پر دستخط کرنے والے مشران کو 4 جنوری کے حملے کے مجرموں اور ان کی مدد کرنے والوں کو حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی، عمل درآمد نہ ہونے پر اقدامات کیے جائیں گے۔

4:43 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top