پارہ چنار میں بسوں پر حملے میں17سال میں300مومنین شہید ہوئے ،خصوصی رپورٹ

17 اکتوبر, 2024 10:19

 شیعیت نیوز: پاراچنار کرم ایجنسی میں 2007 سے لے کر 2024 تک اہلِ تشیع کے کانواۓ/گاڑیوں پر تکفیری دہشت گردوں کے بیسیوں حملے ہوئے جس میں تین  سو سے زائد مومنین شہید ہوئے۔

  مارچ 2008
فاٹا کے لوئر کرم علاقے میں مسلح افراد نے ایک سرکاری ایمبولینس پر گھات لگا کر راکٹوں اور بھاری مشین گنوں کا استعمال کرتے ہوۓ حملہ کیا جس میں 2 خواتین سمیت 7 افراد شہید اور 2 دیگر زخمی ہوئے۔

ایمبولینس پاراچنار سے پشاور جارہی تھی کہ چپھری چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔

مقتولین کا تعلق طوری قبیلے سے تھا شہید ہونے والوں میں میں کیڈٹ کالج رزمک کا ایک طالب علم، ایک لیڈی ہیلتھ ورکر اور دو لیویز اہلکار شامل ہیں۔

  جون 2008
پیرقیوم ، صدہ کے مقام پر کرنل مجید اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لوئر کرم عطاء الرحمن کی سربراہی میں پاراچنار جانے والے مسافر کانواۓ کو طالبان ، لشکرِ جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے حوالے کیا گیا۔

ان درندوں نے ان میں سے 4 افراد کو زندا جلایا باقی افراد کو نہایت ہی بے دردی سے پتھر ، اینٹ اور لوہا کاٹنے والی مشین بالینڈر اور آرے کی مشین سے ان کے سر قلم کر دیے ، ان کے ہاتھ پیر کاٹے گۓ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ۔ان کے مقدس جسموں کو جلایا اور مسخ کیا گیا۔ تصاویر گوگل پر موجود ہیں

3) 10 جولائی 2008 :-
حکومت اور سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں اپر کرم کے لۓ سبزیاں لر کر آنی والی سبزیوں سے بھری گاڑیوں پر اڑاولی گاؤں لور کرم میں حملہ ہوا گاڑیوں کو لینڈ مائنز کے زریعے اڑایا گیا جس میں 7 افراد شہید اور 12 زخمی ہوگئے۔

 اپریل 2010
لوئر کرم ایجنسی کے علاقے چرخیل میں عسکریت پسندوں کی اہلِ تشیع کی گاڑیوں پر فائرنگ سے کئی افراد شہید جبکہ متعد زخمی ہوۓ

 جولائی 2010
کرم ایجنسی کے علاقے چار خیل میں تکفیری دہشت گردوں نے پاراچنار سے پشاور جانے والے مسافر گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر گھات لگا کر راکٹ سے چلنے والے دستی بم سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کیا

جس کے نتیجے میں پاراچنار سے تعلق رکھنے والے 18 افراد شہید جبکہ 4 شدید زخمی ہوئے۔ اس سانحے میں متعدد افراد کو اغوا کیا گیا جن میں 6 طالب علم بھی شامل تھے۔ اس حملے میں 2 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

دسمبر 2010
کرم ایجنسی کے علاقے چپھری میں سیکورٹی فورسز کی مدد سے پاراچنار سے پشاور جانے والے قافلے پر شدت پسندوں نے حملہ کیا جس میں کئی افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوۓ

 جنوری 2011
سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے عسکریت پسندوں نے کرم ایجنسی کے شہر صدہ اور پیر قیوم کے مقام پر کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور دیگر سامان پاراچنار لے جانے والے قافلے پر حملہ کیا اور سات گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ، گاڑی کے ڈرائیوروں اور کنڈکٹرز کو جلتی ہوئی گاڑیوں میں زندہ ڈالا گیا۔

 مارچ 2011
کرم ایجنسی کے علاقے بگن میں پشاور سے پاراچنار جانے والے مسافر گاڑیوں کے قافلے پر حملے میں کم از کم 13 مسافر شہید اور 8 زخمی ہوئے، جب کہ 33 کے قریب افراد کو عسکریت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا جن کو بعد میں کنوایں میں پھینک کر شہید کیا گیا چنانچہ اس حملے میں کل ملا کر 46 افراد شہید ہو گۓ تھے ۔ شہید ہونے والے تمام افراد شیعہ تھے جو پاراچنار سے تعلق رکھتے تھے ۔

21 جون 2022
پاراچنار سے پشاور جانے والے گاڑیوں پر صدا باۓ پاس پر ایف سی چیک پوسٹ پر تکفیری دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں زیشان حیدر (شینگگ) شہید ہوۓ۔

 اکتوبر 2023
رنگ روڈ پشاور پر پاراچنار جانے والی فیلڈر گاڑی پر حملہ ہوا جس میں عارف حسین شہید ہوۓ جبکہ 4 افراد زخمی ہوۓ

 اکتوبر 2023
لوئر کرم کے علاقے چارخیل میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں پاراچنار جانے والی کانواۓ پر حملے کے نتیجے میں 4 ناصر حسین ، دو سگے بھائی ابرار حسین ، مظفر حسین اور سید زمین حسین افراد شہید اور 6 زخمی ہو ۓ۔

دسمبر 2023
ضلع ہنگو میں پاراچنار جانے والی مسافر گاڑی پر حملے میں 2 افراد شہید جبکہ 5 افراد زخمی ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں شہید توقیر سجاد ، اور شہید عجاز حسین شامل ہیں۔

 جنوری 2024
صدہ بازار کے قریب پاراچنار سے پشاور جانے والی دو مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد کے حملے میں ایک خاتون ڈاکٹر رقیہ اور ڈرائیو رحمان علی سمیت 4 افراد شہید ہو گئے۔

5:48 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top