غزہ میں 50ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں: یونیسیف
شیعیت نیوز: اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے غذائیت کے شعبے کے ڈائریکٹر انتھونی لیک نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ میں جنگ اور محدود انسانی رسانی کی وجہ سے اس خطے میں خوراک اور ادویات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی صورتحال بہت ہی بری ہے اور ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے حالات اور شرائط ابھی تک دستیاب نہیں ہیں۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے دس لاکھ افراد کو اگست میں خوراک کا کوئی راشن نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کا ندیم رضا سرور کو ڈاکٹریٹ اور تمغہ امتیاز دینے کا اعلان
گزشتہ مئی میں غزہ کے لیے بیرونی دنیا تک رسائی کے واحد راستے کے طور پر رفح کراسنگ کے محاصرے اور قبضے نے غزہ کے 20 لاکھ سے زائد باشندوں کے لیے خوراک اور ادویات اور یہاں تک کہ پینے کے پانی کی کمی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رفح کراسنگ پر قبضہ کرنے کے بعد قابض فوج انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو صرف کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے جو کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں واقع ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امدادی سامان لے جانے والے 350 سے زائد ٹرک مصری سرحد کے پیچھے غزہ میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔







