پاکستانپاکستان کی اہم خبریں

سانحہ تری منگل: ایک سال بعد بھی قاتل گرفتار نہ ہو سکے

سانحہ تری منگل: شہداء کے خاندانوں کی مایوسی اور غم میں اضافہ، حکومت کی خاموشی اور غیر موثر کارروائی پر گہرے سوالات

شیعیت نیوز: ضلع کرم کے تری منگل سکول میں پچھلے سال ہونے والے سانحے کے بعد بھی قاتلوں کی عدم گرفتاری نے علاقے کے لوگوں کو مایوس کر دیا ہے۔ طلباء اور ان کے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اساتذہ کی غیر موجودگی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک سال گزرنے کے باوجود قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دی گئی، یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔

مزید برآں، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سکول میں منصوبہ بندی کے تحت اے پی ایس پشاور سانحے جیسے واقعات کا امکان موجود ہے، جس کے بعد پروپیگنڈا کے ذریعے علاقے کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ پشاور سانحے کے بعد بڑے پیمانے پر آپریشن ہوا تھا، جو اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشویش کا باعث ہے۔

انجمن حسینیہ نے حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ طوری قوم کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنے گی۔ خانوادہ شہداء کو اعتماد میں لیے بغیر اور قاتلوں کی گرفتاری کے بغیر سکول کھولنے کی صورت میں علاقے کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انجمن حسینیہ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے، ورنہ امن کی بحالی میں ضلعی انتظامیہ کی سنجیدگی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ انجمن فاروقیہ سے اپیل ہے کہ عالمی سازشوں کا تجزیہ کر کے تری مینگل سکول کے بارے میں فوری اور دوراندیش فیصلے کیے جائیں، اور اگر ضروری ہو تو سکول کو عارضی طور پر بند کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : مقتول بھی ہم اسیر بھی ہم!پارہ چنار واقعہ کے خلاف احتجاج پر کوہاٹ کے 30 مومنین کیخلاف مقدمہ درج

عالمی سطح پر، امریکہ نے افغان طالبان کو 300 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں اور افغانستان میں فضائی آپریشنز کو جاری رکھا ہے، جس سے ایران کے ساتھ تناؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکہ افغانستان کو ایران پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جبکہ روس نے ایران کو جدید ہتھیار دیے ہیں۔ افغانستان سے قبائلی علاقوں میں دراندازی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد ایران کے ردعمل اور ضلع کرم کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو سکتی ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر لاحمد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ بنگلہ دیش میں ملٹری ایئر بیس حاصل کرنے کے لیے *balkanization* کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کا ذکر شیخ حسینہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بھی کیا۔

یہ سب عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عالمی اور علاقائی سازشوں کے تناظر میں ضلع کرم کی سیکیورٹی کی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس علاقے کو خانہ جنگی اور دہشتگردی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ عالمی طاقتوں کی شمولیت اور ان کے مفادات کے باعث حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button