سوشل میڈیا مذہبی منافرت کا ہتھیار ، راہِ حل کیا ہے؟ شیعیت نیوز کی خصوصی رپورٹ
شیعیت نیوز کی خصوصی رپورٹ:
پاکستان میں مذہبی منافرت کے پھیلانے میں سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
محرم الحرام کے دوران جہاں ایک طرف مجالس و جلوس کے انعقاد پر پابندی اور جھوٹے مقدمات درج ہوتے ہیں، وہیں ساتھ ساتھ مکتب اہلبیت کے ماننے والوں کو سوشل میڈیا سے بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور سی ٹی ڈی نے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے اور سخت مانیٹرنگ کی، اس کے باوجود کئی واقعات نے جنم لیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر نفرت انگیز مواد شیئر کرنے کے بڑھتے واقعات پر مبنی محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال محرم الحرام سے قبل سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد شیئر کرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، فیس بک پر فرقہ وارانہ مواد شیئر کرنے کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
ماضی میں سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کیخلاف کاروائی کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں پاس کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سیالکوٹ:سوشل میڈیا پر ملت تشیع کے خلاف پروپیگنڈہ پر تکفیری شرپسند جیل میں نظر بند
ایسے عناصر کیخلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ حالیہ دنوں 3 سے 17 محرم الحرام تک ملک کے مختلف اضلاع میں 23 شیعہ نوجوانوں جبکہ دو اہلسنت افراد پر مقدسات کی توہین کے الزام پر مقدمات ہوچکے ہیں۔
سرگودھا، ٹنڈوالہ یار میں دو، ٹنڈو آدم، دادو نوابشاہ، چکوال، میرپور خاص میں توہین صحابہ، توہین اہلبیت و توہین رسولۖ کے مقدمات درج ہوئے۔
امسال توہین کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مجالس اور سوشل میڈیا سے اپنے جوانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ عقائد اپنی جگہ اور معاشرے کی زندگی دو الگ حقیقتیں ہیں، جن کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے جوانوں کا شعور بلند ہونا چاہیئے، توہین آمیز جملے دین و تشیع کی ترقی کا باعث نہیں۔
اپنے عقائد جیسا کہ ولایت امیر المومنین کی حفاظت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن دوسروں کے بڑوں کے حوالے سے توہین آمیز جملے یا ایسی بات جس سے واقعی دل آزاری ہوتی ہو، اس سے اجتناب دین کا حکم ہے۔
دوسروں کے بارے وہ زبان جو باعثِ توہین ہو، معاشرے میں آگ لگائے، وہ استعمال نہ کریں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ مخالفتیں ختم ہو جائیں گی، یہ نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورتحال میں سیاسی مذہبی تنظیموں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے جوانوں کو اکیلا نہ چھوڑیں، ان کی رہنمائی کریں۔
ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کیلئے ہمارے ملک میں قانون موجود ہے اور پھر اسی قانون کے تحت کارروائی بھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض عناصر اس قانون کی آڑ میں اس کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔
یعنی اس کی تشریح کی جائے تو کیا یہ مواد واقعی توہین پہ مبنی بھی ہے یا نہیں۔؟ اہل تشیع، اہلبیت کے مقابلے میں آنے والوں یا ان سے جنگ کرنے والوں میں سے کسی کو قبول ہی نہیں کرتے، جبکہ دوسری طرف اہلبیت سے جنگ کرنے والے کو قبول کیا جاتا ہے۔
یوں ایک مسلک کے ہاں یہ توہین ہوگی اور ایک کے ہاں توہین شمار نہ ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک فرقہ اپنے مسلک کی تفسیر یا نظریہ دوسرے پر مسلط نہیں کرسکتا۔
اس لئے اگر کسی نے اپنے عقیدہ کا اظہار کیا ہے اور وہ سب و شتم کے مرحلہ میں نہیں ہے تو اسے توہین تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔
قانون کے غلط استعمال کے حوالے سے ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ کچھ ایف آئی آرز میں یوں ہوا کہ کسی شکایت پر دسیوں لوگ ایک تھانہ میں جمع ہوئے اور ایس ایچ او کو دباو میں لائے تو نتیجہ میں مقدمہ درج کر دیا گیا۔
مذہبی بنیاد پر مقدمات کا معاملہ بہت حساس ہے، اس کا میکانزم ایسا ہونا چاہیئے کہ کسی بھی ملزم پر ایف آئی آر آسانی سے یا کسی پولیس آفیسر پر پریشر ڈال کر نہ ہو جائے بلکہ مکمل چھان پین کی جانی چاہیئے۔ جو جھوٹی ایف آئی آر کروائے، اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔
جیسا کہ ایک عالم دین کے خلاف ایف آئی آر ہوئی کہ انہوں نے خطاب میں جس شخص کی بات کی، اس سے مراد وہ فلاں شخصیت ہے، اس لئے یہ توہین ہے۔ یہ جو مراد یا خود سے گمان کر لینے کا حق آپ کو کس نے دیا کہ آپ مراد خود سے اخذ کرلیں۔؟
ایک بات واضح ہے کہ اہل تشیع کے ہاں کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین حرام ہے اور اس کی اجازت نہیں ہے۔ اختلاف رائے علمی انداز میں بیان ہوتا ہے، لیکن توہین کی اجازت نہیں ہے۔
جب ہم کسی کی توہین نہیں کرتے تو کسی کو بھی توہین کی اجازت نہیں دے سکتے۔
ملک عزیز میں شیعہ سنی دونوں مسالک کے افراد آباد ہیں، ہمیں یہاں تمام مشترکہ مقدسات کا احترام کرنا ہوگا۔
اہل تشیع کے ہاں تقلید سب سے اہم ترین عمل ہے، تاکہ جوان مجتہدین کے فتاویٰ پر عمل کریں اور ایسے امور انجام نہ دیں، جس سے کسی دوسرے کے مقدسات کی توہین ہو، علمائے کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ منبر سے اتحاد بین المسلمین کا پیغام عام کریں۔







