لاپتہ افراد کیلئے ہر فرد کو آواز اٹھانا ہو گی،سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا سینیٹ میں خطاب
شیعیت نیوز: سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمام شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت ان کا بنیادی حق ہے۔
حج، عمرہ، زیارات یا دیگر عبادات کو فائلر یا نان فائلر جیسے قانون سے نہ جوڑا جائے۔
ہر سال لاکھوں لوگ اپنے مال مویشی بیچ کر زیارات کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔ قانون سازی میں ایسی کوئی شق قابل قبول نہیں ہو گی جس سے کسی بھی شخص کی زیارات پر جانے کی آزادی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
زائرین کے لیے کسی بھی قسم کی سفری مشکل کھڑی نہ کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عام عوام نے اس بجٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عزاداری سید الشہدا پر کسی قسم کی پابندی برداشت نہیں،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
عوام پر اتنا بوجھ نا ڈالیں کہ انکا ریاست سے اعتماد اٹھا جائے پاکستان کی تمام مشکلات کا بوجھ عوام اٹھاتی ہے یہ پارلیمنٹ اور سینٹ اشرافیہ کے لئے نہیں بلکہ عوام کے نمائندوں کے لئے بنائی گئی ہے یہاں عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے فیصلے ہونے چاہئیں۔
مجلس وحدت مسلمین عزم استحکام پاکستان کے نام سے آپریشن کی مخالفت کرتی ہے۔جب بھی آپریشن کی بات ہوتی ہے تو عوام کیوں اس کی مخالفت کرتی ہے؟
عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہو گا۔
عوام کو اس آپریشن پر شیدید تحفظات ہیں ستر ہزار سے زیادہ پاکستان شہید ہو چکے ہیں کتنوں کے قاتل گرفتار ہوئے اور انہیں سزائیں ہوئیں یہاں سے کس طرح سے احسان اللہ احسان جسیے لوگ فرار ہوئے؟
کرم کے لوگ امن چاہتے ہیں وہ امن مارچ کررہے ہیں لیکن وہاں روزانہ دونوں اطراف سے لوگ مارے جا رہے ہیں۔مسنگ پرسنز کا مسئلہ انتہائی درد ناک ہے۔کئی مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی ہیں۔
سیکورٹی ادارے مسنگ پرسنز کے حوالے سے لاعلم ہیں تو پھر کون انہیں اغوا کر رہا ہے۔میرے ایک دوست کو آٹھ سال پہلے اغوا کیا گیا ابھی تک اس کو کچھ پتہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا سینیٹ میں دبنگ خطاب!اسرائیل سے نارملائزیشن کسی صورت قبول نہیں
لاپتہ افراد جس قوم قبیلے سے بھی تعلق رکھتے ہوں ہمیں ان کے لئے آواز اٹھانا ہو گی۔
مسنگ کرنا غیر قانونی غیر آئینی ہے۔سوات میں ایک بے گناہ آدمی کو سرے عام قتل کیا گیا۔
انتہا پسندی معاشرے کے لئے ناسور بن چکی ہے۔کیسے لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا خود جج بن گئے خود فیصلہ کر لیا خود سزا بھی دے دی؟
ہمیں انتہا پسندی کو روکنا ہو گا یہ آگ ہمارے گھروں کو بھی جلائے گی۔







