ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم لشکر جھگنوی کا خطرناک دہشت گرد فیضان بٹ مارا گیا

12 مئی, 2024 16:17

شیعیت نیوز:لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

 ملزم فیضان بٹ کو دوران تفتیش اسلحہ اور ہینڈ گرینیڈ کی برآمدگی کے لیے کرول جنگل لیجایا گیا، فیضان کی نشاندہی پر جنگل سے 2 پسٹل اور ہینڈ گرینیڈ برآمد کیے، برآمدگی کے دوران فیضان کے 5 سے 6 ساتھیوں نے حملہ کردیا۔

حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی ٹیم پر سیدھا فائرنگ کی، سی ٹی ڈی ٹیم نے بھی اپنے دفاع میں فائرنگ کی، فائرنگ کرنے والے 3 دہشت گرد جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے، موقع سے 2 کلاشنکوف ایک پستول قبضہ میں لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: شیعہ کلنگ میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کا سرغنہ رووف گجر کا جیل میں خطرناک منصوبہ،خصوصی رپورٹ

 ٹارگٹ کلر فیضان کا تعلق کالعدم  شکر جھنگوی  سے تھا۔

فیضان کے ساتھ ہلاک ہونے والے تینوں دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جب کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم فیضان کالعدم تنظیم کے سوشل میڈیا نیٹ ورک کاحصہ تھا جبکہ فیضان نے مصری شاہ میں سب انسپکٹر کو شہید کرنے سے پہلے اس کی تصویر لی تھی اس کے بعد ملزم فیضان نے سب انسپکٹر کی تصویر سوشل میڈیا گروپ میں بھیج کر مارنے کی اجازت مانگی تھی۔

ملزم فیضان نے سوشل میڈیا گروپ پر پیغام بھجوایا تھا کہ ٹارگٹ 2 پھولوں والا ہے جب سوشل میڈیا گروپ سے ہلاک کرنے کی اجازت ملی تو فیضان نے سب انسپکٹر کو شہید کر دیا۔اسی طرح ٹیکسالی میں کانسٹیبل غلام رسول کو شہید کرنے سے قبل ملزم فیضان نے اس کی بھی تصویر سوشل میڈیا گروپ میں بھیج کر ہلاکت کی اجازت کی طلب کی تھی۔

پولیس اہلکاروں کے قتل کے حوالے سے ملزم فیضان بٹ سے مزید تفتیش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم لشکر جھنگوی کے عبدالرؤف گجر نے پولیس ٹارگٹ کلنگ میں دہشت گرد کی معاونت کی ،حیران کن انکشافات

ملزم فیضان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے یہ تمام قتل پولیس سے نفرت کے باعث کئے ہیں کیونکہ اسے پولیس نے ایک غلط مقدمے میں ملوث کر دیا تھا جس کا اسے بہت غصہ تھا۔ ملزم کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیل میں اس کی ملاقات کالعدم لشکر جھنگوی کے عبدالرؤف گجر سے ہوئی تھی۔

رؤف گجر نے 6 لاکھ روپے رشوت دیکر اس کی ضمانت کرائی تھی۔

ملزم کے مطابق اسے رہا کروا کر افغانستان کے علاقے خراسان بھجوا دیاگیا تھا جہاں اسے 6 پولیس اہلکاروں کے ہلاکت کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

ملزم کے مطابق افغانستان میں اس کی ملاقات عاصم نامی شخص سے ہوئی تھی جس نے اسے پولیس اہلکاروں کے قتل ٹاسک دیا اور ٹاسک پورا کرنے پر افغانستان میں نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا۔

7:34 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top