پاکستان کے عوام صدرِِ ایران کے استقبال کیلئے بیتاب ہیں۔علامہ محمد امین شہیدی
شیعیت نیوز:امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے عوام غیرت مندقوم کی حیثیت سے صدر ِ ایران کو دینی اور انقلابی لیڈر سمجھتی ہے۔
آیت اللہ ابراہیم رئیسی جہاں اپنی ذاتی خصوصیات اور کمالات کی وجہ سے ایک ممتاز مجتہد،فقیہہ،ڈاکٹر عالم دین،غازی اور دیگر کئی خصوصیات کے حامل ہیں۔
اسلامی حکومت کے صدر کی حیثیت سے پاکستان کے عوام کیلئے انتہائی قابل قدر شخصیت ہیں۔
پاکستان کے عوام اس ہیرو کا عوامی استقبال کرنے کیلئے پرجوش ہیں جس کے دورِ صدارت میں تاریخی میں پہلی مرتبہ بچوں کے قاتل غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف جرات مندانہ فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ایران مضبوط تعلقات امت مسلمہ کے دل کی آواز ہے، علامہ حافظ ریاض نجفی
ہم پر امید ہیں صدر ایران کے دورہ سے دونوں ممالک کے سیاسی،سفارتی، ثقافتی،دینی،تاریخی مشترکات کی مضبوطی میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ
پاکستان کے عوام کے دل ایسے انقلابی رہنماوں کیلئے دھڑکتے ہیں جو غیرت و حمیت کا درس دیتے ہیں ۔
ایران کے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی کا دورہ نہ صرف سفارتی،سیاسی لحاظ سے اہم سنگ میل طے کرے گا بلکہ پاکستان کے شیعہ سنی مسلمانوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف تاریخی کردار،فلسطینیوں کی حمایت، حریت پسندوں اور مظلومین جہاں کے ہمدرد ویاور جمہوری اسلامی ایران کے بارے میں دنیا بھر کے زندہ دل، غیور اور باحمیت پاکستان کے 25کروڑ عوام کے دِ لوں میں جو قدر و منزلت ہے وہ وہ قابل رشک ہے۔
اسی باعث پاکستان کے عوام امت مسلمہ کے عظیم لیڈر آیت اللہ رئیسی کو قریب سے دیکھنے اورانکی گفتگو سے استفادہ کرنے کی خواہش مند ہے۔
مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال اور پاکستان ایران تعلقات کی نظر سے صدر ایران کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان کے تین روزہ دورہ کے دوران عوام کے فقید المثال اور پرجوش عوامی استقبالات سے یہ ثابت ہوگا کہ وہ پاکستان میں کسی دوسرے ملک میں نہیں بلکہ اپنے ہی ملک میں ہیں پاکستان کے عوام ان سے پرخلوص محبتوں اور عقیدتوں کا تحفہ دیں گے۔
پاکستان کا ہر غیرت مند جوان اور ہر پاکستانی صدرِایران کے استقبال کیلئے بیتاب ہے۔
انکے دورہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اورغلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا اور مشترکہ دشمنوں کے سامنے کندھے سے کندھا ملا کر باہمی اتحاد کا عملی مظاہر بھی ہوگا۔







