اہم ترین خبریںدنیا

ایران کا اسرائیل پر جوابی وار:مسلم ممالک کی خاموشی اور اردن نے غداری کیوں کی؟خصوصی رپورٹ

سوال اردن، مصر، ترکی، متحدہ عرب امارات و دیگر سے کریں کہ انھوں نے غاصب صیہونی ریاست کو کیوں تسلیم کیا؟ سوال اردن سے کریں کہ جب درجنوں ڈرون اسرائیل کو نشانہ بنانے جا رہے تھے اس نے امریکہ کے مل کر ان ڈرونز کو انٹرسپٹ کر کے اسلام سے کیوں غداری کی؟

شیعیت نیوز:دمشق میں ایرانی کونسلیٹ پر حملے کے جواب میں گذشتہ رات ایران کا اسرئیل پر حملہ کمال جرات و شجاعت کا مظہر تھا، جس میں ایران نے اپنی فوجی صلاحیتوں، میزائل ٹیکنالوحی اور اپنے آہنی عزم و ارادے کا جرات مندانہ اظہار کیا۔

ایسے وقت میں کہ جب عرب و دیگر مسلم ممالک اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس کی بیعت کر چکے ہیں، ایران نے غاصب صیہونیوں کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کر کے پیغام دیا ہے کہ چاہے تمام امت مسلمہ صیہونی درندوں کے ہاتھ پر بیعت کرلے۔

پیروکاران علی ابن ابی طالبؑ اسلامی جمہوری ایران کی قیادت میں تن تنہا اسلام و امت مسلمہ، بالخصوص مظلومین فلسطین کا دفاع کریں گے اور علیؑ کی طرح عصر حاضر کا خیبر بھی علیؑ کے بیٹے فتح کریں گے۔

ایران کے اسرائیل پر حملے پر نکتہ چینی کرنے والوں کے دل و دماغ پر فرقہ وارانہ تعصب کا پردہ پڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ انصاف پر مبنی تجزیہ کرنے اور حق بات کہنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔

ایران کے حملہ پرمنصفانہ تجزیہ کرنے سے پہلے تعصب و نفرت کی عینک اتارانہ ہو گی، تب حقایق کا ادراک ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی مدد سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا اسرائیلی منصوبہ

ایران کے حملے پر اعتراض ہے لیکن دیگر پچاس اسلامی ممالک کی مجرمانہ خاموشی پر زبانیں گنگ ہیں، اسرائیلی درندگی کے سامنے تن تہنا سینہ سپر ہونے والے ایران پر تو تنقید کے نشتر مگر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے اسلامی ممالک کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں، مظلومین فلسطین کی حمایت میں چالیس سال سے برسرپیکار ایران پر اعتراضات کی بوچھاڑ، مگر صیہونی درندوں کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کرنے والے اسلامی ممالک کے گناہ عظیم پر قبرستان سی خاموشی، کیا یہ انصاف ہے؟

سوال ایران سے نہیں، سوال دیگر پچاس اسلامی ممالک سے کرنا چاہیئے کہ انھوں نے قبلہ اول کی آزادی کے لیے کیا کیا؟ انھوں نے مظلومین فلسطین کو صیہونی درندگی سے بچانے کے لیے کیا کیا؟ سوال ایران سے نہیں ‘قلعہ اسلام’ سے کریں کہ آپ کی اسلامی فوج اور ایٹمی طاقت فلسطین کے مظلومین کے لیے کیوں استعمال نہیں ہوئی؟

سوال اردن، مصر، ترکی، متحدہ عرب امارات و دیگر سے کریں کہ انھوں نے غاصب صیہونی ریاست کو کیوں تسلیم کیا؟

سوال اردن سے کریں کہ جب درجنوں ڈرون اسرائیل کو نشانہ بنانے جا رہے تھے اس نے امریکہ کے مل کر ان ڈرونز کو انٹرسپٹ کر کے اسلام سے کیوں غداری کی؟

جب ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکہ، برطانیہ، نیٹو ممالک اسرائیل کے عملی دفاع میں مصروف عمل تھے، سوال یہ ہے کہ اس وقت اسلامی ممالک ایران کے ساتھ کیوں نہیں کھڑے تھے؟ ایٹمی قوت کا حامل پاکستان کہاں تھا؟ اسلام کی قیادت کے دعویدار ترکی و سعودی عرب کہاں تھے؟

ایران کو فلسطین کی حمایت میں نشانہ بنایا گیا، کیا جوابی حملہ کرنا صرف ایران کی ذمہ داری تھی؟ کیا فلسطین کے مظلومین کی حمایت صرف ایران کی ذمہ داری ہے جبکہ دیگر اسلامی ممالک کا کام قبلہ اول کے کاز کے ساتھ غداری ہے؟

ایران کے حملے کو غیر مؤثر کہنے والے کبھی دیگر اسلامی ممالک سے بھی سوال کرنے کی ہمت کریں اور کٹھ پتلی حکمرانوں سے ان کی مجرمانہ خاموشی پر ان کا محاسبہ کرنے کی توفیق حاصل کریں۔

انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ جس طرح امریکہ و مغربی ممالک اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں، اسلامی ممالک کو بھی ایران کی عملی مدد کرنی چاہیے تھی، کم از کم زبانی حمایت کا اعلان کر کے ایمان کے کم سے کم درجے پر ہونے کا ثبوت ہی دے دیتے، لیکن کچھ اسلامی ممالک اعلانیہ جبکہ اکثریت درپردہ اسرائیلی کیمپ میں شامل ہے۔

اسلام و مسسلمین کے خیرخواہوں کو ان کٹھ پتلی حکمرانوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیئے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button