پہلے ناصبیت اب تکفیریت؟ احمد جاوید نے فرقہ واریت کا نیاز محاذ کھول دیا

05 مارچ, 2024 15:11

شیعیت نیوز: احمد جاوید  نے فرقہ واریت کا محاذ کھولا ہے اور پاکستان میں علامہ جواد نقوی کو وحدت کا داعی ہونا بھی اہل سنت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے

اور نظام امامت کے خلاف کھل کر ناصبیت کا اظہار کیاہے ، اس پر علماء کہ جن کو ان کے شبھات کا جواب دینا چاہیے، وہ میدان میں نہیں ہیں، لہذا ایک طالب علم کی حیثیت سے ان کے اعتراضات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں۔

پہلی بات جو واضح ہونی چاہیے کہ احمد جاوید صاحب یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستانی شیعہ ایران اور ایرانیت کے لیے کوشاں ہیں، جبکہ ہمارا ایران سے نہیں بلکہ ولایت فقیہ سے تعلق ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے، جیسے باقی ہمسائے ممالک ہیں۔
۔ انہوں نے کہا کہ سارا جھگڑا ایران کے بارے میں ہے، مزید کہا کہ جن تحفظات کا اظہار میں نے کیا ہے، بڑے ادارے اور بڑی شخصیات بھی اس کا اظہار کر چکے ہیں۔
 نہ، یہ جھگڑا ایران کے بارے میں نہیں ہے، یہ نظام امامت کے بارے میں ہے، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اہل تشیع نظام امامت کو پوری دنیا میں نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہیں
جس کی وجہ سے وہ اہل سنت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
بالکل ہو بہو یہی بات امریکہ و اسرائیل کے تھنک ٹینک کرتے ہیں کہ نظام ولایت فقیہ سے امریکہ و اسرائیل کو شدید خطرہ ہے، جس کی سرکوبی کے لیے انہوں نے داعش بنائی اور بہت سارے ہتھکنڈے اپنائے
اور تکفیریت کو اہل سنت کے نام پر پروان چڑھایا۔تو احمد جاوید صاحب جن اداروں اور بڑی شخصیات کی بات کر رہے ہیں وہ درست کہتے ہیں کہ نظام ولایت فقیہ امریکہ و اسرائیل اور تکفیریوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناصبی متعصب احمد جاوید نے نظامِ ولایت فقیہہ کو بدعت قرار دے دیا

نظام ولایت فقیہ اہل سنت کے لیے نہیں، تکفیریوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ یہ درست نہیں ہے کہ اہل تشیع اہل تسنن کو شیعہ بنانا چاہتے ہیں

آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شیعہ اپنی پالیسیوں کے ذریعے سے اہل سنت کو شیعہ بنانا چاہتے ہیں، یہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، نزاع اس بات پر ہے نہ کہ ایران کے بارے میں۔
اور بالفرض اگر ایک لمحہ کے لیے ایسا مان بھی لیں کہ اگر کوئی اہل سنت شیعہ ہو بھی جاتا ہے، تو کیا وہ اسلام کے دائرہ سے خارج ہو جائے گا؟ آپ کی باتوں سے تو تکفیریت کی بو آتی ہے۔
۔ انہوں نے کہا کہ جو بات میں نے پہلے کی تھی میں نے کوشش کی تھی کہ عوام میں پھیلنے سے روکا جائے، تو وہ تحفظات ابھی عرض کروں گا۔
یہ ایک طرح سے دھمکی دے رہے ہیں کہ پہلے میں نے ڈھکے چھپے انداز میں اپنی ناصبیت کا اظہار کیا تھا، ابھی کھل کر تکفیریت و فرقہ واریت کو پھیلانے کے لیے جو کچھ کہنا پڑے کہوں گا۔

9:13 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top