سلیم صافی کا کالعدم جماعتوں سے کیا تعلق ہے؟
شیعیت نیوز:صحافی سلیم صافی کے کالعدم جماعتوں اور تکفیریوں سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔
سلیم صافی پاکستان کے ان صحافیوں میں سے ہیں جن کے طالب علمی کے زمانے سے شیعہ مخالف گروپس سے گہرے تعلقات رہے ہیں۔
زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمیعت طلبا میں شامل ر ہے سی آئ اے، اور سعودی عرب کے ایجاد کردہ نام نہاد جہاد افغانستان میں شامل ہو کر افغانستان جا پنہچے
اور بے گناہ افغانوں کے خون میں اپنے ہاتھ تر کیے
امریکہ پر القائدہ کے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی سے تو اپنا ناطہ توڑ لیا۔
سلیم صافی ہمیشہ شیعہ مخالف اور تکفیری جماعتوں کے دفاع میں کالم لکھتے ہیں۔
گزشتہ روز ایک کالم میں سلیم صافی نے الزام لگایا ہے کہ ایران پاکستان میں فرقہ واریت پھیلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ایران تعلقات پر سلیم صافی کے متنازعہ کالم پر نصرت شاہانی کا جوابی کالم
سلیم صافی نے مزید لکھا کہ ایران کے وزیر خارجہ پاکستان آرہے ہیں تو ان پر واضح کر دیا جائے کہ پاکستان مزید ایران میں اپنے مخالف عناصر کی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا
اور ایران کی طرف سے پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کا سلسلہ بھی اب بند ہونا چاہئے۔
اب برادر برادر کا ورد بند ہونا چاہئے۔ ایران یا تو حقیقی معنوں میں برادر بنے یا پھر انہیں بھی اس طرح ڈیل کیا جائے جس طرح ہندوستان کو کیا جارہا ہے۔
سلیم صافی کا ایران پر بھونڈا الزام شیعہ تعصب کی بنیاد پر ہے،آل سعود کی ایما پر پاکستان میں فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے واقعات پر کوئی مذمتی کالم یا بیان سامنے نہیں آیا ۔
سلیم صافی کالعدم تنظیموں سے گہرےتعلقات کی بنیاد پر پاکستان کے پڑوسی ملک سے تعلقات کو بگاڑنا چاہتا ہے۔
آزادیء اظہار کے نام پر سلیم صافی نامی شخص نے اس کالم میں قومی مفادات کے تقاضوں کیخلاف اپنے قد سے بڑھ کر باتیں کی ہیں۔
دو تین دن پہلے جناب وسعت اللہ خان نے بی بی سی کے لئے کالم میں پاک ایران دوستی کے چند حقائق بیان کرتے ہوئے اس طرح کے غیر ذمہ دار لکھاریوں، اینکرز کی طرف بھی اشارہ کیا، جو اس عارضی کشیدگی پر بغلیں بجا رہے تھے۔
خان صاحب نے بجا طور پر ایسی صحافی نما مخلوق کے رویئے کو ہمارے ریاستی بیانیہ کیخلاف قرار دیا۔
لگتا ہے ان عناصر کو وسعت اللہ خان کا مبنی بر حقائق موقف اور پاکستان کا بیانیہ ناگوار گزرا ہے، جس کا ثبوت مسٹر سلیم کا یہ کالم ہے۔







