اہم ترین خبریںپاکستان

مفاہمتی سیاست کے بادشاہ آصف زرداری نے لشکر جھنگوی سے مفاہمت کرکے ہزاروں شیعہ سنیوں کےقاتل شفیق مینگل کو بھی گلے لگالیا

اس ٹوئٹ کے استفسار میں سابق وفاقی وزیر اور پی پی پی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے لکھا کہ کیا یہ وہی شفیق مینگل ھے جو ہزارہ قبیلہ کے قتل میں ملوث ھے؟؟

شیعیت نیوز: مفاہمت کی سیاست کے بادشاہ کے نام سے مشہور سابق صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نےآئندہ عام انتخابات میں بلوچستان فتح کرنے کیلئے سینکڑوں شیعہ ہزارہ عوام کے قاتل کالعدم لشکر جھنگوی کے سفاک دہشت گرد شفیق مینگل سے بھی مفاہمت کرکے گلے لگا لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ اور مستونگ میں سینکڑوں شیعہ ہزارہ شہریوں کوبے دردی سے شہید کرنے والے اور شیعہ ٹارکٹ کلنگ کی سینچریاں بنانے کا اعلان کرنے والے بدنام زمانہ دہشت گرد شفیق مینگل کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل کرلیا گیا ، آئندہ انتخابات میں تیر کے نشان پر قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیئے جانے کا امکان ۔

ذرائع کے مطابق اس دہشت گرد سرغنہ شفیق مینگل نے گذشتہ روز سابق صدر مملکت وشریک چیئرمین آصف علی زرداری سے لاہور میں ملاقات کی ہے، ٹوئٹر پر جاری خبر کے مطابق پی پی پی کے سوشل میڈیا ونگ نے اس بدنام زمانہ دہشت گرد کا نام شفیق مینگل کے بجائے میرحمود الرحمان لکھا ہے۔

آصف زرداری کی ہزاروں شیعہ سنی شہریوں خصوصاً ہزارہ برادری کے بہیمانہ قتل عام میں ملوث اس وحشی درندے کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو جہاں عام پاکستانیوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے وہیں خود پیپلز پارٹی میں موجود معتدل مزاج شخصیات اور انسانی اقتدار کا احترام کرنےوالے رہنما بھی آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہمارے حکمران امریکی نمک خوار ہیں لیکن پاکستانی عوام ہر حال میں مظلوم فلسطینیوں بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ،علامہ مختار امامی

ایک سوشل میڈیا صارف نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ مقتولوں کے وارث قاتلوں کے ساتھی کب سے ہو گئے؟

 

‏کیا ہم ڈیتھ اسکواڈ والے شفیق مینگل کو میر شفیق الرحمان لکھ کر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل کر سکتے ہیں؟ معذرت لیکن پیپلزپارٹی کا ورکر اسٹیبلشمنٹ کو اپنی لیڈرشپ کا قاتل سمجھتا ہے۔ انکی خوشنودی میں اتنا آگے نہ جائیں کہ کارکن پھٹ پڑیں!

اس ٹوئٹ کے استفسار میں سابق وفاقی وزیر اور پی پی پی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے لکھا کہ کیا یہ وہی شفیق مینگل ھے جو ہزارہ قبیلہ کے قتل میں ملوث ھے؟؟

اس پر اس صارف نے مزید وضاحت کی کہ نہ صرف ہزارہ قبیلے بلکہ شکار پور امام بارگاہ اور لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے تانے بانے بھی اسی سے جا کر ملتے ہیں۔

یہ وہ سرکاری ہاتھی ہے جو 2005 سے مسلسل بلوچ قوم پرستوں کے قتال، اجتماعی قبروں اور بلوچستان میں فرقہ وارایت کا سب سے گھناونا کردار ہے۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف محمد عمیر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ شفیق مینگل‏ نے 2018 کا انتخاب آزاد حیثیت میں لڑا مگر ہار گئے،ان کی تنظیم کا نام دفاع بلوچستان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مُسلم لیگ ن کو بدترین شِکست کا خوف ،ایکبار پھر ہزاروں شیعہ سنی عوام کی قاتل لشکرِجھنگوی سے ہاتھ ملا لیا

2014 میں تُوتک سے اجتماعی قبریں ملنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے بنے کوئٹہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مسکانزئی کے ماتحت بننے والی ٹربیونل میں 20 سے زائد عینی شاہدین نے اجتماعی قبروں سے شفیق مینگل کی وابستگی کی گواہی دی ۔

شفیق مینگل پر الزامات ہیں کہ انہوں نے ریاستی سرپرستی میں ڈیتھ سکواڈ چلائے جس میں بلوچ علحیدگی پسند لوگوں کو مارا گیا۔

سندھ کے علاقہ شکار پور میں امام بار گاہ میں خود کش دھماکے میں 60 لوگ شہید ہوئے،اس دھماکے میں خود کش بمبار کو جائے وقوعہ تک پہنچانے میں شفیق مینگل کا نام آیا۔۔

اختر مینگل اور شفیق مینگل کے آپسی تنازعات بھی چلتے رہے۔ اب یہ شخص پیپلزپارٹی کا حصہ بنا ہے جو اختر مینگل کے علاقہ سے الیکشن لڑے گا۔

واضح رہے کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آرہے ہیں ہماری مروجہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے چہروں سے نقاب بھی تیزی سے الٹ رہے ہیں، گذشتہ دنوں مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی لشکر جھنگوی کے خطرناک دہشت گرد آصف معاویہ کو جھنگ سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیئے جانے کی خبر سامنے آئے تھی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button