جنگ بندی پر اتفاق کے بعد اسماعیل ہنیہ اور امیر عبداللہیان کی پہلی ملاقات
شیعیت نیوز: ایران کے وزیر خارجہ اور حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق کے بعد جمعرات کی رات قطر میں ملاقات کی۔
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے دوحہ میں جمعرات کی رات ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات میں ایران کے وزير خارجہ کو غزہ میں جنگ کی تازہ صورت حال اور جنگ بندی پر اتفاق کے بارے میں بریفنگ دی گئي۔
الاقصی طوفان آپریشن کی کامیابی کے بعد قطر میں اسماعیل ہنیہ اور ایران کے وزیر خارجہ کی یہ تیسری ملاقات تھی۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونی حکومت طوفان الاقصی آپریشن کے نتیجے میں بے بس ہوچکی ہے، ابراہیم رئیسی
دوسری جانب ایران کے وزير خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے قطر کے وزير اعظم اور وزير خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی سے ملاقات کی۔
ارنا کے مطابق وزیر خارجہ نے جمعرات کو دوحہ پہنچنے پر قطر کے وزير اعظم و وزير خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان آل ثانی سے بحران فلسطین اور جنگ بندی پر عمل در آمد کے سلسلے میں بات چیت کی۔
وزیر خارجہ تین ہفتے قبل بھی قطر کے دورے پر گئے تھے اور یہ غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ کے آغاز کے بعد ان کا تیسرا قطر کا دورہ ہے۔
ایران کی سفارتی کاوشوں اور غزہ میں فلسطینی مزاحمت کی جدو جہد سے صیہونی حکومت کو جنگ بندی پر مجبور کئے جانے کے بعد اب جنگ بندی کو پائيدار بنانے کی کوشش جاری ہے۔
واضح رہے قطر نے غزہ جنگ کے سلسلے میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ روز بھی صیہونی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ڈیویڈ بارنیا جو حالیہ معاہدے کے اصل مذاکرات کار ہيں، دوحہ گئے تھے جہاں انہوں نے شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی سے ملاقات کی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں فریقین نے جنگ بندی کے بارے میں گفتگو کی تھی۔







