امریکہ میں صیہونیوں کا بیانیہ ہوا ہوگیا، ٹرین میں امریکی سینٹر کو مشکل سوالوں کا سامنا
WASHINGTON, DC - JUNE 11: U.S. Sen. Chris Coons (D-DE) speaks at a hearing of the Judiciary Committee considering authorization for subpoenas relating to the Crossfire Hurricane investigation on June 11, 2020 in Washington, DC. Crossfire Hurricane was the code name for the FBI counterintelligence investigation that looked into links between Trump associates and Russian officials in the 2016 presidential election. (Photo by Carolyn Kaster-Pool/Getty Images)
شیعیت نیوز: غزہ میں جاری لڑائی کے بارے میں امریکا کے موقف اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کے غزہ جنگ بارے جو بائیڈن کی انتظامیہ کے نقطہ نظر کے بارے میں اختلاف کے اعتراف کے بعد ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز کو ایک شرمناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی سینیٹر ٹرین میں سفرکررہے تھے تواس مشہور صحافی ہارون میٹی نے انہیں روکا اور 4600 سے زائد بچوں سمیت ہزاروں فلسطینی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے اسرائیل کے ہتھیاروں کے استعمال میں امریکا کے ملوث ہونے کے بارے میں واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
صحافی نے سینیٹر سے استفسار کیا کہ انہوں نے 39دن سے محاصرے کا شکار غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے کیوں انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہزاروں بچے اسرائیلی فوج کی پرتشدد مہم کا نشانہ ہے اور اس کے ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔
تاہم کرس کونزنے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ صحافی پر ان کی رازداری پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ اس پر اسے اور دیگر ٹرین کے مسافروں کو پریشان کرنے کا الزام لگایا۔
امریکی سیاستدان نے صحافی سے کہا کہ وہ ان سے دور رہیں اور ان پر براہ راست تنقید اور الزامات لگانا بند کریں۔
صحافی کے اصرار کے پیش نظر کونز نے ٹرین کے عملے سے مداخلت کرنے اور میٹی کو اپنی گفتگو مکمل کرنے سے روکنے کے لیے مدد کی درخواست کی۔
طویل بحث کے بعد سیاست دان صحافی کو جواب دینے پر مجبور ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:https://shiite.news/ur/?p=654409
کونز نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی یا کسی جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوں گے اور وہ وہاں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں کہا کہ امریکی ہتھیار تل ابیب بھیجے گئے تھے۔
تاہم انہوں نے غزہ میں ہزاروں بچوں جس نے صحافی کو غزہ میں ہزاروں بچوں کے قتل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب کا مذاق اڑایا۔
صحافی اور امریکی سیاست دان کے درمیان گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس نے غزہ میں امریکی موقف پر تنقید کرنے والے حلقوں کو اجاگر کیا۔







