غرب اردن میں صیہونی فوجیوں کا حملہ، 7 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی

شیعیت نیوز: پریس ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے غرب اردن کے مختلف علاقوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا ہے جہان فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور صیہونی جارحیت میں سات فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ کئی دیگر کو صیہونی فوجیوں نے گرفتار کر لیا۔
غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے جمعرات کو غرب اردن کے مختلف علاقوں منجملہ بیت لحم کے جنوبی علاقے الدہیشہ، طول الکرم میں نور شمس کیمپ اور قلقلیہ پر حملہ کیا جہاں فلسطینیوں اور غاصب صیہونی فوجیوں میں جھڑپیں ہوئیں اور صیہونی جارحین نے فائرنگ کر کے سات فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے دسیوں فلسطینیوں کو گرفتار بھی کر لیا۔ غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے طولکرم میں نور شمس کیمپ پر حملہ کیا اور اس علاقے کو فوجی بند علاقہ قرار دے دیا۔
یہ صیہونی جارحیت ایسے میں انجام دی گئی ہے کہ غزہ میں نہتھے اور عام شہریوں کے خلاف صیہونی فوج کے جارحانہ حملے بدستور جاری ہیں جبکہ گذشتہ چند گھنٹوں میں دسیوں فلسطینی شہید و زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پہلے انکار اور بعد میں ذمہ داری قبول کرنا اسرائیل کی عادت ہے، ایمن الصفدی
دوسری جانب غزہ کے شہدا الاقصیٰ ہسپتال کے ڈائریکٹر ’’ایاد الجبری‘‘ نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں طبی عملے اور آلات کی کمی کے سبب ہیلتھ کی صورت حال نہایت سنگین اور مخدوش ہے اور ہم اس سے متاثر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ادویات اور طبی آلات کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم شہداء کی لاشوں کی ایک بڑی تعداد کو الاقصیٰ شہداء ہسپتال منتقل کیے جانے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔
غزہ کے شہریوں نے بھی اس چینل کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ہمیں ایک بڑے پیمانے پر نسل کشی کا سامنا ہے اور المعمدانی ہسپتال پر بمباری تاریخ میں ایک ایسا وحشت ناک جرم ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ غاصب اور جارح صیہونی فوج مزاحمتی فورسز سے نہیں بلکہ نہتے فلسطینی بچوں سے لڑ رہی ہے۔