ایران، دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ حبیب فرج اللہ کو پھانسی دی گئی
شیعیت نیوز: دہشت گرد تنظیم حرکت النضال کے سرغنہ اور سویڈن کے حمایت یافتہ حبیب فرج اللہ چعب نے 2018 میں خوزستان کے شہر اہواز میں فوجی پیریڈ پر دہشت گرد حملے اور دیگر واقعات میں شہریوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
ایرانی عدلیہ سے منسلک میزان نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ دہشت گرد تنظیم حرکت النضال کے سربراہ حبیب فرج اللہ المعروف حبیب اسیود کو ہفتے کی صبح تختہ دار پر لٹکایا گیا۔
12 مارچ کو عدالت نے ملک میں فسادات پھیلانے اور حرکت النضال کے نام سے علیحدگی پسند گروہ کی تشکیل، فنڈنگ اور خوزستان کے شہر اہواز میں فوجی پیریڈ پر حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں ان کی سزا کی توثیق کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : پاراچنار، ایک جانب شناخت کے بعد شیعہ اساتذہ کاقتل عام دوسری جانب شیعوں کیجانب سے سنی اساتذہ کی باحفاظت سکیورٹی اداروں کو حوالگی
انہوں نے 2018 میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے اور دیگر واقعات میں شہریوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا اور جرم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی۔
چعب نے پریس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سویڈن اور دیگر سیکنڈ نیون ممالک کی حمایت حاصل ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سویڈن حکومت کی طرف سے ایک آلہ فراہم کیا گیا تھا جس کے ذریعے خطرے کے وقت سویڈش حکام کو خبردار کیا جاسکتا تھا تاکہ ان کو بچاسکیں۔
حبیب فرج اللہ کو ایران کی سیکیورٹی ایجنسی کے جوانوں نے نومبر 2020 میں ترکی سے گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے عدالت میں اس کی دہشت گرانہ کارروائیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ دو سال سے زائد عرصے تک مقدمے کی کارروائی اور دہشت گرد کی جانب سے اپنے جرائم کا اعتراف کئے جانے کے بعد عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی جس کے بعد اس نے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی اور وہاں سے بھی اس کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی گئی جس کے بعد آج صبح اس پرعمل در آمد کر دیا گیا۔
اس طرح سی آئی اے اور موساد کا جاسوس دہشت گرد سرغنہ حبیب فرجالله چعب اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
یاد رہے کہ دہشت گرد تنظیم حرکت النضال جنوبی صوبے خوزستان میں حکومت کے خلاف علیحدگی کی مسلح تحریک چلاتی ہے۔
تنظیم نے 2018 میں خوزستان کے دارالحکومت اہواز میں فوجی پیریڈ پر مسلح حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں سپاہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سمیت 25 افراد شہید اور 270 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔







