ہم بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں، اقوام متحدہ
شیعیت نیوز: اقوام متحدہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور ان کی ٹیم بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے کو توسیع دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ بحیرہ اسود کے اناج کے موجودہ معاہدے کی مدت 120 دن ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان کی ٹیم اس معاہدے کو دوبارہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی کھاد اور اناج کی برآمد سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے سیکرٹری جنرل اور ان کی ٹیم نے اس تجارت کو آسان بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی بھی رکاوٹیں ہیں، خاص طور پر ادائیگی کے نظام کے سلسلے میں۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ بحیرہ اسود کے اناج کا معاہدہ اور روسی کھاد اور اناج کی برآمدات پر مفاہمت کی یادداشت دونوں دنیا کی غذائی تحفظ کے لیے اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران سعودی معاہدہ خطے میں ترقی کی جانب ایک قدم ہے، علیرضا عنایتی
یوکرین کے نائب وزیر اعظم اولیکسنڈر کوباکوف نے اعلان کیا کہ بحیرہ اسود کے ذریعے اناج کی برآمد کے منصوبے کو ’’60 دن کے لیے‘‘ بڑھانے کے بارے میں روس کا موقف ترکی اور اقوام متحدہ کے دستخط شدہ ابتدائی معاہدے سے متصادم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحیرہ اسود کے غلہ کے منصوبے سے متعلق ابتدائی دستخط شدہ معاہدے میں اس پلان کی مدت کم از کم 120 دن ہے۔ اس لیے معاہدے میں صرف 60 دن کی توسیع کے بارے میں روس کا مؤقف ترکی اور اقوام متحدہ کے دستخط شدہ دستاویز سے متصادم ہے۔ ہم اس اقدام کے ضامن کے طور پر اقوام متحدہ اور ترکی کے سرکاری موقف کا انتظار کر رہے ہیں۔
قبل ازیں، اقوام متحدہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ بحیرہ اسود سے اناج برآمد کرنے کے منصوبے کے ساتھ ساتھ روسی کھاد اور خوراک کی برآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہماری کوششوں کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس منصوبے کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ روسی زرعی مصنوعات اور اناج کی برآمد کے حوالے سے، ہم اس برآمد کو آسان بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ہم نجی شعبے، یورپ، انگلینڈ، امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔







