سلفیت کا تکفیریت سے کوئی تعلق نہیں، مفتی عراق الشیخ ڈاکٹر مہدی بن احمد الصمیدعی السلفی کی پاکستانی شیعہ سنی علماء سے گفتگو
شیعیت نیوز: امت واحدہ پاکستان کا اہل سنت علما، مشائخ اور سادات عظام کا 40 رکنی وفد علامہ محمد امین شہیدی کی سربراہی میں عراق کے دورے پر ہے۔ وفد نے مقامات مقدسہ کی زیارات کے ساتھ عراق کی برجستہ شخصیات سے ملاقاتیں بھی کی ہین۔ وفد نے دار الافتاء عراق مرکزِ سلفیت کا دورہ کا بھی دورہ کیا اور مفتی عراق الشیخ ڈاکٹر مہدی بن احمد الصمیدعی السلفی سے خصوصی ملاقات کی۔
مفتی عراق الشیخ ڈاکٹر مہدی بن احمد الصمیدعی السلفی نے وفد سے خصوصی ملاقات میں کہا کہ سلفیت کا تکفیریت سے کوئی تعلق نہیں، چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر دنیا بھر سے شیعہ علمائے کرام یہاں تشریف لاتے ہیں تو مرکز سیلفیت کا دورہ کرتے ہیں یہ تمام مسالک کے لیے امن کی جگہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انقلاب اسلامی کی عزت اور طاقت میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کی بنیاد ملی جدوجہد اور مضبوط مذہبی وابستگی ہے،علامہ شبیرمیثمی
انکا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے مرکز سلفیت کو داعش نے متعدد بار ہدف کا نشانہ بنایا، خودکش دھماکے کیے مگر ہم نے امن کا پیغام جاری رکھا۔ انہوں کہا کہ جب آیت اللہ العظمی سیستانی نے داعش کے خلاف فتویٰ دیا تو اسے کسی ایک فرقہ کے خلاف گمان کیا گیا، لیکن ہم جہادِ کفائی کو جہادِ الزامی میں تبدیل کرتے ہوئے حشد الشعبی میں شامل ہوئے، اس میں تمام مسالک کے مجاہدین شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے حالات سے واقف ہیں اور علمائے اہلسنت پاکستان سے وفود کے ہمراہ ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کی یکجہتی کا پروگرام بھی تشکیل دیا، عراق مسلمانوں کے مابین اتحاد و وحدت کی اساس ہے۔
اس موقع پر امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی عراق کی طرح فرقہ واریت کو ہو ادی گئی، مگر پاکستان کے متوازن اور معتدل علمائے کرام نے اس فتنہ کو دور کرنے کی عملی کوشش کی، 40سال میں ایک لاکھ شہید ہوئے، امت مسلمہ کی یکجہتی عالمی استعمار کے ایجنڈے میں رکاوٹ ہے، اگر تمام مسالک متحد ہوجائیں تو یہ اس فتنہ کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جشن ولادت مولائے کائنات امام علیؑ و یوم شہداء پاکستان بمناسبت برسی شہید مظفر کرمانی کراچی میں تقریب کا انعقاد
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی استعمار جیسے مسالک کے مابین اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اگر ہم اتحاد کے لیے اسی طرح سے کوشش کرلیں تو دشمن رسوا ہوسکتا ہے، اگر ایسے ہی وفود ایک دوسرے کی طرف آتے رہیں گے، ہمیں اپنا دردِ مشترک سمجھنے میں مدد ملے گی، ہم چھوٹے اختلافات سے نکل کر بڑے مسائل کے بارے میں سوچیں گے۔ مرکز سیلفیت کے دورہ کے موقع پر قدیمی مسجد اُم الطبول میں نمازِ باجماعت ادا کی گئی۔ مفتی عراق الشیخ ڈاکٹر مہدی بن احمد الصمیدعی نے وفد کو اپنی خصوصی تالیف ابنِ تیمیہ کی نظر میں شیعہ سے بھی نوازا۔







