پشاور دھماکہ قابل مذمت اور قومی سانحہ ہے، علامہ ریاض حسین نجفی
شیعیت نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری اور نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے پولیس لائن پشاور کی مسجد میں ہونیوالے خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کو قومی سانحہ قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ دہشتگردوں کا خاتمہ کئے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی معنوں پر عملدرآمد ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ کالعدم دہشت گرد گروہ اپنی دہشتگردی اور نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ مگر کوئی ان کیخلاف کارروائی نہیں کرتا۔ مذمتی بیان میں حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ اللہ کے حضور پیش ہوکر سر بسجود ہونیوالے نمازیوں کو شہید کرنا دہشت گردوں کا ظالمانہ فعل اور سفاکیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی شہرت یافتہ ایرانی انقلابی مداحِ اہل بیتؑ حاج مہدی رسولی ماہ فرروی میں پاکستان تشریف لارہے ہیں
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک عرصے سے دہشتگردی کا شکار ہے مگر عوام کو ابھی تک دہشت گردی سے نجات نہیں مل سکی۔ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت اسی شہر پشاور کی امامیہ مسجد قصہ خوانی بازار میں گذشتہ سال 3 مارچ 2022ء کو خودکش دھماکہ ہوا، مگر آج تک نمازیوں کے قاتل اور سہولت کاروں کا کوئی علم نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو ڈنگ ٹپاو پالیسی کو چھوڑ کر طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ تکفیری دہشتگرد دندناتے پھرتے ہیں، انہیں لگام دینے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اسی طرح دہشتگردوں کو حوصلہ ملتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوتا تو اب تک ہم ان حالات تک نہ پہنچ چکے ہوتے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے زبانی جمع خرچ اور جھوٹے دعوے بہت ہو چکے، اب عملی اقدامات کرکے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے۔ ہمیں سکیورٹی اداروں کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن جو حالات نظر آ رہے ہیں، عوام میں احساس عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔







