اہم ترین خبریںپاکستان

سانحہ مسجد وامام بارگاہ کربلائے معلیٰ شکارپور کو 8 برس گذر گئے، خانوادہ شہداء اب بھی انصاف کے منتظر

واضح رہے کہ آج ہی کہ دن پشاور میں پولیس لائن کی مسجد میں بھی انہیں تکفیری طالبان دہشت گردوں نے خود کش حملہ کرکے اپنے ہی مسلک دیوبند سے تعلق رکھنے والے درجنوں نمازیوں کو شہید کردیا ہے

شیعیت نیوز: سانحہ مسجد وامام بارگاہ کربلائے معلیٰ شکارپور کو8برس مکمل ہوگئے، وارثان شہداءتاحال حکومت سے انصاف کے منتظر ، شہداء کی برسی کے موقع پرعظمت شہداءکانفرنس کا فقید المثال انعقاد جاری ہےجس میں مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماءکونسل، آئی ایس اواور اصغریہ آرگنائزیشن کے قائدین سمیت ہزاروں افراد شریک ہیں، تفصیلات کے مطابق 30جنوری 2015پر نماز جمعہ کے دوران کالعدم تکفیری جماعت سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے سفاک دہشتگردوں نے جامع مسجد وامام بارگاہ کربلائے معلیٰ شکارپور میں خودکش حملہ کرکے 65 نمازیوں کو شہید جبکہ درجنوں نمازیوں کو زخمی کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جنہوں نے عوام کو تحفظ دینا ہے وہ سیاست اور حکومت کے کھیل میں مشغول ہیں،علامہ راجہ ناصرعباس

سانحے کے بعد وارثان شہداءکمیٹی اور مجلس وحدت مسلمین نے قاتلوں کی گرفتاری اور شہداءکے لواحقین کے لئے انصاف کے حصول کی خاطر شکارپور تا کراچی 500کلومیٹر طویل لانگ مارچ کیاتھا اور اس وقت کی صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کے بعد لانگ مار چ اختتام پزیر ہواتھا لیکن حکمرانوں کا وہ وعدہ ہی کیا جو وفاہوجائے، آج تک پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور سائیں سرکار کا وارثان شہداءکے ساتھ قاتلوں کی گرفتاری، شہداءٹاور کی تعمیر، وارثان شہداءکی ملازمتوں ، مسجد وامام بارگاہ کی تعمیر نو ودیگر وعدوں میں سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نا ہوسکا اور آج بھی شہداءکے وراثان انصاف کے حصول کی خاطر دربدرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ پشاور جیسے انسانیت سوز اقدام میں ملوث دہشت گرد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں،شیخ احمد علی نوری

واضح رہے کہ آج ہی کہ دن پشاور میں پولیس لائن کی مسجد میں بھی انہیں تکفیری طالبان دہشت گردوں نے خود کش حملہ کرکے اپنے ہی مسلک دیوبند سے تعلق رکھنے والے درجنوں نمازیوں کو شہید کردیا ہے ۔ اگر ریاستی ادارے شیعہ مساجد پر دہشت گرد حملوں پر کوئی اقدام اٹھاتے تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button